سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 537 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 537

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۳۷ حصہ پنجم (۱۵) و از دلم دور ہر بلندی کن خاک در چشم خود پسندی کن (۱۶) بخداوندیت که پرده بپوش برہانم ز ہر رعونت و جوش ہمہ درگزر بلطف و کرم چشم گریانم (۱۷) آنچه دانم و زآنچه بے خبرم از (۱۸) اے خداوند اے نگہبانم رحم کن رو ریزه (۱۹) سوخت از درد ہجر سینه من ریزه شد آبگینه من (۲۰) جانم از غم بفضل خود برہان اے تو اہل تفضل و احسان و ضعیف چون مورم (۲۱) رحم فرما که زار و بیزورم ناتوان (۲۲) کرکے ام نہ آدمی زادم از سگان تو بدتر افتادم گاه برخاسته دلم چون گرد و (۲۳) گاه هستم برو فتاده ز درد (۲۴) بے تو دیگر کسے نے دارم (۲۵) میزنم و پا نیابم راه ایکه کردی حوالتم کارم زانچه بر من رود توئی آگاہ در مکنون صفحه ۲ ،۳ مطبوعه ۲۱ / دسمبر ۱۹۱۶ء) بقیہ حاشیہ۔(۱۵) میرے دل سے ہر قسم کی بلندی کا خیال محو کر دے اور خود پسندی کی آنکھ میں خاک ڈال دے۔(۱۲) تیرے عظمت و جلال کی قسم میری پردہ پوشی فرما اور مجھے ہر قسم کی رعونت اور جوش سے نجات بخش۔(۱۷) میں اپنی کمزوریوں کو جانتا ہوں یا نہیں جانتا تو سب سے از راہ لطف و کرم درگز رفرما۔(۱۸) اے میرے اللہ اے میرے نگہبان میری رونے والی دونوں آنکھوں پر رحم فرما۔(۱۹) ہجر کے درد سے میرا سینہ جل چکا ہے اور میرا شیشہ دل پارہ پارہ ہو چکا ہے۔(۲۰) میری جان کو اپنے فضل سے غم سے رہائی بخش تو صاحب فضل واحسان ہے۔(۲۱) رحم فرما کیونکہ میں ناچا رو کمزور ہوں بلکہ چیونٹی کی طرح ضعیف و نا تواں ہوں۔(۲۲) میں آدمی زاد کیا ایک کیڑا ہوں تیرے حضور میں اپنے آپ کو انتہائی کمزورسمجھتا ہوں۔(۲۳) میری حالت یہ ہے کہ کبھی درد و اضطراب سے گرا ہوا ہوتا ہوں اور کبھی میرا دل تیرے راستہ میں گرد و غبار کی طرح اٹھتا ہے۔(۲۴) حقیقت یہ ہے کہ میرا تو تیرے سوا کوئی بھی نہیں تو نے ہی میرے سپر د میرا کام کر دیا ہے۔(۲۵) ہاتھ پاؤں مارتا ہوں پھر بھی راستہ نہیں ملتا اور اس کشمکش میں میری جو حالت ہے اس سے آپ ہی آگاہ ہیں۔