سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 536
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام (۵) دلبرا سوئے خویش را ہم دہ ۵۳۶ در حریم قدس پناهم ده که نیاید خبر ز خود که منم (1) بربائم چناں ز خویش تنم (۷) دل من رشک دردناکاں کن سیر من خاک کوئے پاکاں کن (۸) زاں نمط گم بعشق خویشم کن که نماند ز من نه شاخ نہ بُن در جانم (۹) شور مجنون بریز (۱۰) داستانی دلر بائی کن مست و مجذوب خود بگردانم گم کن و باز رہنمائی کن (11) جاں بشویم ز رنگ ہستی خویش وا رہا نم خود پرستی خویش (۱۲) آتش فروز در دل من که از و در تپش فتد همه تن (۱۳) ہرچه غیر از تو زان نفورم کن غرق در لجہ ہائے نورم کن (۱۴) از همه من خلاصم کن مهبط فیض نور خاصم کن حمد حاشیہ۔دعا کے اشعار کا ( شعر نمبر ۵ سے ) نمبر وار تر جمہ حسب ذیل ہے جو حاصل مطلب کے طور پر لکھتا ہوں۔(ترجمه از مرتب) (۵) اے میرے محبوب مجھے اپنی ہی طرف رہنمائی کر اپنے ہی حریم قدس میں مجھ کو پناہ دے۔(۶) مجھ کو اپنی خودی ( انانیت) سے اس طرح الگ کر دے کہ مجھے اپنی ہستی کی کچھ خبر ہی نہ رہے۔(۷) میرے دل میں ایسا درد پیدا کر دے کہ اس پر رشک کریں اور میرا سر پاک لوگوں کے کوچہ کی خاک ہو جائے۔(۸) مجھے اپنی محبت و عشق میں اس طرح پر فنا کر دے کہ میرے شجر ہستی کی نہ شاخ رہے نہ جڑ باقی ہو۔(۹) میری فطرت میں مجنوں کا شور پیدا کر دے ہاں ہاں مجھے اپنا ہی مست و مجذوب بنا دے۔(۱۰) دل ستانی اور دل ربائی فرما مجھے مقام فنا عطا کر کے آپ رہنمائی فرما۔(۱۱) میں اپنی ہستی کے رنگ کو مٹا ڈالوں اور اپنی خود پرستی کو کھودوں۔(۱۲) میرے دل میں ایک ایسی آگ پیدا کر دے جس سے میرے بدن کے ہر ذرہ میں ایک تپش پیدا ہو جاوے۔(۱۳) ماسوی اللہ سے مجھے نفرت عطا کر اور اپنے ہی نور میں مجھے غرق کر دے۔(۱۴) مجھے ہر ما ومن سے مخلصی عطا فرما اور اپنے خاص نور کا مجھے جلوہ گاہ بنادے۔