سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 527 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 527

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۲۷ حصہ پنجم پادریوں اور دہریوں وغیرہ کی طرف سے ہو رہے تھے ان کے جوابات کے لئے آپ بے قرار اور مضطرب تھے اور اس کے لئے اپنے نفس اور رائے سے کچھ بولنا نہیں چاہتے تھے بلکہ خدا تعالیٰ سے براہ راست فیض حاصل کرنے کے لئے دعاؤں میں مصروف تھے اور ان دعاؤں ہی کا نتیجہ تھا کہ آپ پر اَلرَّحْمَنُ عَلَّمَ الْقُرآن کی وحی ہوئی اور آپ نے اپنے عمل سے بتایا کہ قرآن فہمی کے لئے دعاؤں اور توجہ الی اللہ ہی رہنما ہے چنانچہ آپ نے دوسرے مقام پر فرمایا سے مشکل قرآن نہ از ابنائے دنیا حل شود ذوق آن می داند آن مستی که نوشد آن شراب (1) حق کی تائید اور فتح کے لئے دعا جیسا کہ میں لکھ آیا ہوں اور آپ کے سوانح حیات میں میں نے تفصیل سے ذکر کیا ہے حضرت والد صاحب مرحوم کے احکام کی محض تعمیل و اطاعت میں آپ اپنی ریاست کے مقدمات کی پیروی کے لئے بھی جاتے تھے اور آپ کے معمول میں یہ امر داخل تھا کہ مقدمہ کی تاریخ سے پہلے دن عشاء کی نماز مسجد اقصیٰ میں ادا کر کے حاضرین سے فرماتے کہ مجھ کو مقدمہ کی تاریخ پر جانا ہے والد صاحب کے حکم کی نافرمانی نہیں کر سکتا دعا کرو کہ اس مقدمہ میں حق حق ہو جاوے اور مجھے مخلصی ملے میں نہیں کہتا کہ میرے حق میں ہو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ حق کیا ہے؟ پس جو اس کے علم میں حق ہو اس کی تائید اور فتح ہو۔“ اس دعا کے لئے آپ خود بھی ہاتھوں کو خوب پھیلاتے اور دیر تک دعا مانگتے اور تمام حاضرین بھی شریک ہوتے تھے۔دعا کے الفاظ اپنی حقیقت اور دعا کرنے والے کے دلی عزائم اور جذبات کی ترجمانی کرتے ہیں۔لوگ مقدمات کرتے ہیں اور ان میں کامیابی کے لئے تقویٰ اور صداقت کی قطعاً پروا نہیں کرتے بلکہ ہرقسم کی مزوّرانہ چالوں کو اپنی دانش مندی اور فرزانگی قرار دیتے ہیں۔مگرغور کریں کہ حضرت اقدس حقیقت اور صداقت کے صحیح عل کو اللہ تعالیٰ کی عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ ہستی ا ترجمہ۔قرآن کو سمجھنے کا مسئلہ اہل دنیا سے حل نہیں ہو سکتا اس شراب کا مزاو ہی جانتا ہے جو اس شراب کو پیتا ہے۔