سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 526
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۲۶ حصہ پنجم رہا۔تب میں نے اُن فرشتوں اور مولوی عبد اللہ صاحب کو کہا کہ آؤ میں ایک دعا کرتا ہوں تم آمین کرو۔تب میں نے یہ دُعا کی کہ رَبِّ اذْهَبْ عَنِّـى الرِّجْسَ وَطَهَّرُنِى تَطْهِيرًا۔اس کے بعد وہ تینوں فرشتے آسمان کی طرف اُٹھ گئے اور مولوی عبداللہ صاحب بھی آسمان کی طرف اُٹھ گئے اور میری آنکھ کھل گئی اور آنکھ کھلتے ہی میں نے دیکھا کہ ایک طاقت بالا مجھ کو ارضی زندگی سے بلند تر کھینچ کر لے گئی اور وہ ایک ہی رات تھی جس میں خدا نے بتمام و کمال میری اصلاح کر دی اور مجھ میں وہ تبدیلی واقع ہوئی کہ جو انسان کے ہاتھ سے یا انسان کے ارادہ سے نہیں ہو سکتی۔“ تریاق القلوب مطبوعه ۱۹۰۲ ء صفحه ۹۴، ۹۵ - روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۳۵۲٬۳۵۱) (۵) قرآن مجید کے فہم کے لئے دعا (۶۴ - ۱۸۶۸ء کا درمیانی واقعہ ) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں دعا ایک بے نظیر حربہ ہے وہ ہر کام دعا ہی سے لیتے تھے دعا ہی کے ذریعے سے عربی زبان کے ہزاروں الفاظ کا علم آپ کو دیا گیا اکثر امراض کا ازالہ دعاؤں سے ہوا۔دشمن کے مقابلہ میں اسی حربہ سے فتح حاصل کی۔یہ زمانہ آپ کی جوانی کا تھا اور آپ اس زمانہ میں سیالکوٹ میں یہ سلسلہ ملازمت تھے آپ کی عام عادت شروع سے یہ تھی کہ اپنا دروازہ بند کر کے خلوت میں رہتے تھے سیالکوٹ میں یہی طریق تھا بعض لوگ اسی ٹوہ میں تھے کہ یہ دروازہ بند کر کے کیا کرتے ہیں آخر ایک دن انہوں نے موقع پالیا اور آپ کی اس مخفی زندگی کا ان پر انکشاف ہوا اور وہ یہ تھا کہ آپ مصلی پر بیٹھے ہوئے قرآن مجید ہاتھ میں لے کر دعا کر رہے تھے کہ یا اللہ تیرا کلام ہے مجھے تو تو ہی سمجھائے گا تو میں سمجھ سکتا ہوں۔یہ قرآن مجید سے محبت اور اس کے حقائق و معارف کی اشاعت کے جوش کا نتیجہ ہے جیسا کہ اوپر میں بیان کر آیا ہوں کہ آپ دین قویم کے غلبہ اور حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جلال و اقبال کے لئے دعاؤں میں مصروف تھے اس کے ضمن میں قرآن کریم پر جو اعتراض اس زمانہ میں