سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 524
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۲۴ حصہ پنجم کے اور خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا مگر یہاں حضرت اقدس ایک دوسرے بزرگ کو دعا کے لئے کہتے ہیں اور اپنے مقصد کا اظہار نہیں کرتے اور ان کو جو جواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیا جاتا ہے وہ آپ کے مقاصد کا آئینہ دار ہے اور خود حضرت نے فرمایا کہ میرا مدعا یہ تھا کہ دین محمدی علیہ الصلوۃ والسلام روز بروز تنزل میں ہے خدا اس کا مددگار ہو۔ایسا ہی آپ میاں شرف الدین صاحب ہم والے کے پاس کبھی کبھار جاتے تھے مگر آپ کا جانا ذاتی غرض کے لئے نہ ہوتا تھا بلکہ ترقی اسلام کے لئے آپ خود بھی دعاؤں میں مصروف تھے اور اگر کسی کے متعلق یہ معلوم تھا کہ وہ دعا کرنے کا اہل ہے تو اسے بھی مخفی طور پر دعا کرنے کے لئے بلا اظہار مطلب توجہ دلاتے اور یہ دعائیں تائید دین متین اور شوکت و جلال محمدی علیہ الصلوۃ والسلام کے ظہور کے لئے ہوتی تھیں۔آپ کی زندگی کے ہر عہد کی دعاؤں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کی دعاؤں اور آپ کی زندگی کا۔مرکزی نقطہ احیاء دین احمد تھا۔اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ عَلَى الِ مُحَمَّدٍ وَبَارِكُ وَسَلَّمْ (۴) ۱۸۷۴ء کی ایک دعا یہ ایک لطیف دعا ہے جو آپ نے خواب میں کی خواب کے واقعات انسان کی اپنی طاقت اور اختیار سے باہر ہیں اور ان میں تصنع اور بناوٹ نہیں ہو سکتی۔اسی لئے اس زمانہ میں جب بعض لوگوں کو اپریشن کیوقت کلورا فارم سونگھایا جاتا ہے تو ان کی دماغی کیفیت اصلیت کو بعض الفاظ کے بیان و اظہار سے کھول دیتی ہے۔بہر حال خواب ایک ایسی کیفیت ہے جس میں خواب بین کے حواس ظاہری معطل ہوتے ہیں نہ وہ سن سکتا ہے نہ دیکھ سکتا ہے نہ بول سکتا ہے وغیرہ۔اس حالت میں جو کچھ بیان کرتا ہے وہ اس کی اصل حالت کا آئینہ ہوتا ہے حضرت اقدس اس خصوص میں ایک اپنے خواب کا واقعہ بیان کرتے ہیں اور خواب میں آپ نے ایک دعا کی ہے جس پر فرشتوں نے آمین کہی ہے دعا کسی دنیوی مفاد اور مقصد کو لئے ہوئے نہیں بلکہ سراسر تزکیہ نفس اور طہارت باطنی کے پاک