سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 523
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۲۳ حصہ پنجم اور اس کا باعث بجز اس کے کچھ نہ تھا کہ عامل بالحدیث تھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ واقعہ خود بیان فرمایا ہے اور میں اسے سیرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جلد اول کے صفحہ ۸۰ ( حیات احمد جلد اصفحہ ۱۲۶ شائع کردہ نظارت اشاعت) پر لکھ آیا ہوں یہاں مقصد بیان آپ کی دعا ہے۔عبداللہ غزنوی سے دعا اور اُس کا جواب حضرت اقدس نے اُن سے اپنی ملاقات کا واقعہ بیان کیا ہے کہ وو ” جب وہ زندہ تھے ایک دفعہ مقام خیر دی میں اور دوسری دفعہ مقام امرتسر میں اُن سے میری ملاقات ہوئی میں نے انہیں کہا کہ آپ ملہم ہیں ہمارا ایک مدعا ہے اس کے لئے آپ دعا کرو مگر میں آپ کو نہیں بتلاؤں گا کہ کیا مدعا ہے۔انہوں نے کہا کہ در پوشیدہ داشتن برکت است و من انشاء اللہ دعا خواهم کرد والہام امراختیاری نیست۔اور میرا مدعا یہ تھا کہ دین محمدی علیہ الصلوۃ والسلام روز بروز تنزل میں ہے خدا اُس کا مددگار ہو۔بعد اس کے میں قادیان میں چلا آیا تھوڑے دنوں کے بعد بذریعہ ڈاک اُن کا خط مجھے ملا جس میں یہ لکھا تھا کہ ایں عاجز برائے شما دعا کرده بود القا شد - وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ - فقیر را کم اتفاق مے افتد که بدیں جلدی القا شود این از اخلاص شما می بینم۔حضرت مسیح موعود کی خواہش کا اندازہ اس دعا سے ہوسکتا ہے کہ آپ کی سب سے بڑی خواہش کیا تھی ؟ آپ مولوی عبد اللہ غزنوی صاحب کے پاس اپنی ذاتی غرض کے لئے نہیں گئے تھے اور نہ کچھ پیش کیا۔جو غرض مخفی آپ کے دل میں تھی۔وہ محض اسلام کی ترقی کے لئے تھی اور اس کی تائید اور نصرت کی دعا تھی۔مولوی عبد اللہ غزنوی صاحب کے پاس جانے کا زمانہ ۷۲۔۱۸۶۸ء کے درمیانی عرصہ کا ہے۔دعا کے متعلق میں نے شروع میں لکھا ہے کہ وہ انسان کی نہاں در نہاں خواہشوں کا نتیجہ ہوتی ہے اور اس سے انسانی سیرت کا بآسانی پتہ لگ جاتا ہے اس لئے کہ ان جذبات اور خواہشوں کو اس