سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 28
سیرت حضرت مسیح موعود علیہا ۲۸ اعجاز نما کرتہ کے متعلق ثناء اللہ امرتسری پر اتمام حجت حصّہ اوّل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ کرتہ اب تک مولوی عبد اللہ صاحب سنوری کے پاس موجود ہے اور اس پر سرخی کے نشان اب تک قائم ہیں۔اس کشف کے متعلق منکر امرتسری نے اہل حدیث ے جولائی ۱۹۱۶ء میں اعتراض کیا۔اس اعتراض کا جواب الفضل ۲۹ جولائی ۱۹۱۶ء میں شائع کر دیا گیا۔اس جواب کے دیتے ہوئے ایڈیٹر صاحب الفضل نے ثناء اللہ امرتسری کو چیلنج کیا کہ اگر وہ اس کو فرضی اور محض افتر ایقین کرتے ہیں تو ان کو چاہیے کہ اہل حدیث میں اپنے یقین کے ثبوت میں حلف بِلَعْنَةِ اللهِ عَلَى الْكَاذِبِين شائع کر دیں خدا تعالیٰ خود ہی جھوٹ اور سچ میں امتیاز کر دے گا ورنہ یہ سمجھا جائے گا کہ وہ دل سے اس واقعہ کی صداقت کے قائل ہیں اور بظاہر ایک منافقانہ طرز اختیار کی ہوئی ہے۔اس پر باوقات مختلف الفضل اور اہل حدیث میں مختصر نوٹ نکلے۔مگر مولوی عبداللہ صاحب سنوری نے الفضل کے نوٹ کو پڑھ کر اپنی شہادت لکھ کر ایڈیٹر صاحب الفضل کو بھیج دی۔جو انہوں نے ۲۶ ستمبر ۱۹۱۶ء کے الفضل میں شائع کر دی اور ساتھ ہی یہ بھی تحریر فرمایا کہ حضرت خلیفہ اسیج الثانی کے حکم کے ماتحت اس کشف کے متعلق ثناء اللہ کے رو برو جمع عام میں جس جگہ ثناء اللہ چاہے اور جن الفاظ میں چاہے یہ عاجز قسم کھانے کو تیار ہے نیز یہ عاجز مباہلہ کے لئے بھی حاضر ہے غرضیکہ وہ جس طرح بھی چاہے اطمینان کرلے“۔مولوی عبداللہ صاحب سنوری کی شہادت مولوی عبد اللہ صاحب سنوری نے مندرجہ ذیل الفاظ میں اس شہادت کو ادا کیا ہے۔الفضل ۲۷ جولائی میں حضرت اقدس نبی اللہ کے مشہور کشف پر بد بخت ثناء اللہ کا حملہ دیکھ کر دل بیتاب ہو گیا۔چونکہ حضرت اقدس اس دار فانی میں موجود نہیں لیکن جس کے روبرو یہ واقعہ ظہور میں آیا ہے یہ عاجز تا حال زندہ موجود ہے اس واسطے