سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 519
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۱۹ حصہ پنجم اور اپنی ذات کے لئے اخلاق فاضلہ کی دعا ہے کہ کبر و غرور سے پاک کر دے اور میرے سینہ کو اپنے نور سے منور کر دے۔یہ اسی قسم کی دعا ہے جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا ہے کہ اے اللہ ! میری آنکھ میں نور پیدا کر دے، میرے قلب میں نور رکھ دے۔یہ باتیں تکلف سے کسی دل سے نہیں نکل سکتی ہیں۔کوئی دوسرا ان باتوں کو سنتا نہیں یہ آپ کے قلب کے مخفی در مخفی گوشوں میں پیدا ہونے والی آواز ہے دنیا کا کوئی انسان اسے جانتا نہیں تھا۔آپ ان تنہائی کی ساعتوں میں اپنے رب سے جو کچھ بھی مانگتے ہیں وہ اصلاح نفس عشق ربانی اور احیائے دین احمد کا جذبہ ہے۔یہ چیز آپ کی فطرت میں تھی اور خدا تعالیٰ آپ سے اس قسم کی دعائیں خود کراتا تھا اس لئے کہ آپ خود احیاء دین احمد کے لئے مبعوث ہونے والے تھے اللہ تعالیٰ کے علم میں تو یہ بات تھی اس لئے آپ کی فطرت میں یہ جوش پیدا کر دیا۔اللہ تعالیٰ جو مجیب الدعوات ہے اور جس نے مضطر کی دعاؤں کو قبول کرنے کا وعدہ فرمایا ہے ان دعاؤں کو کیوں قبول نہ فرماتا اور اگر غور کیا جاوے تو یہ بھی ایک سنت اللہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جن پاک وجودوں کو اصلاح خلق کے لئے برگزیدہ فرماتا ہے اس مقصد کے لئے ان کی فطرت میں ایک خاص جوش اور جذ بہ رکھ دیتا ہے اور وہ اپنی بعثت سے قبل دنیا کی حالتِ زار کو دیکھ کر بے انتہا دعائیں کرتے ہیں اور دعائیں ہی خدا تعالیٰ کی رحمت کو جوش میں لاتی ہیں چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حالت بھی قبل از بعثت یہی تھی جیسا کہ خود حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں۔حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں کی تجلیات اور اعجاز ” وہ جو عرب کے بیابانی ملک میں ایک عجیب ماجرا گزرا کہ لاکھوں مُردے تھوڑے دنوں میں زندہ ہو گئے اور پشتوں کے بگڑے ہوئے الہی رنگ پکڑ گئے۔اور آنکھوں کے اندھے بینا ہوئے۔اور گونگوں کی زبان پر الہی معارف جاری ہوئے۔اور دنیا میں یکدفعہ ایک ایسا انقلاب پیدا ہوا کہ نہ پہلے اس سے کسی آنکھ نے دیکھا۔اور نہ کسی کان نے سُنا۔کچھ جانتے ہو کہ وہ کیا تھا ؟