سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 518 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 518

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ الہ ۵۱۸ (۲۲) دائم الحبس شود دران چاہے حصہ پنجم نماند (۲۱) آنکه او را بخلق کار نماند باز کارش بروزگار که نیاید از و برون گا ہے نظرم فقر کن مطلب بزرگ ترم (۲۳) تیم و زر کن حقیر در (۲۴) آنچنان بخش عقل حق جویم کہ براہت بچشم و سر پویم (۲۵) شور عشقت در بریز جانم از مجذوب بگردانم (۲۶) ہمہ مدح و ثنائے تو خواہم ہر چہ خواہم برائے تو خواہم (۲۷) اے خداوند من گنا ہم بخش سوئے درگاه خویش را هم بخش (۲۸) تا مرا دل به تو حمد تو پیوست ہمہ کاروبار ہا بگسست ان اشعار میں جو ایام شباب کے جذبات کے مظہر ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی قبل از بعثت کی زندگی کے اسرار پنہاں ہیں وہ اپنی تنہائی اور خلوت کی ساعتوں میں اپنے ربّ کریم کو مخاطب کرتے ہیں اور اپنی دعا میں دنیا اور اس کے مالوفات کی کوئی خواہش نہیں کرتے اپنی راحت و آسائش کے طالب نہیں بلکہ آپ کی دعا کا مرکزی نقطہ۔حضرت احدیت کی محبت و عشق ہے۔اور اس کے بعد جس چیز کی زبردست خواہش آپ کے دل میں ہے وہ دین احمد کے احیا کا زبر دست جذبہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مخلوق کو کفر و شرک سے نجات دے۔ترجمہ اشعار۔(۲۱) ہاں مجھے ایسا بنا دے کہ دنیا سے کوئی کام ہی نہ رہے۔دنیا کیا زمانہ سے بھی کوئی کام نہ رہے۔(۲۲) میں تیری محبت کے چاہ میں ایسا اسیر ہو جاؤں۔کہ پھر اس سے کبھی باہر نہ نکل سکوں۔(۲۳) سیم وزر میری نظر میں حقیر کر دے۔میرا سب سے عظیم تر مقصد فقر کر دے (۲۴) مجھ کو وہ عقل عطا فرما جوحق جو ہواور تیرے راستہ میں بسر و چشم آؤں۔(۲۵) میری جان میں اپنے عشق کی نمک ریزی فرما۔اور اس محبت میں مجھے مست و مجذوب کر دے۔(۲۶) میری خواہشوں کا منتہا تیری حمد وثنا ہے۔خلاصہ یہ ہے کہ میری جو بھی خواہش ہے وہ تیری رضا ہی کے لئے ہے۔(۲۷) اے میرے اللہ میرے گناہ بخش۔اپنی درگاہ کی طرف میری رہنمائی فرما۔(۲۸) جب سے میرا دل آپ سے اور آپ کی محبت میں محو ہو گیا ہے۔دنیا اور اس کے ہر قسم کے کاروبار کو چھوڑ دیا۔