سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 503
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام این دعائے شیخ ۵۰۳ حصہ پنجم مگر یہ حالت خدا کی طرف سے آتی ہے انسان کے اختیار میں کچھ نہیں۔دعا حق ہے۔اس میں انسان اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کی چادر کے نیچے خفی ہو جاتا ہے عبودیت کو ربوبیت کے ساتھ قدیم سے ایک رشتہ ہے جس کا نام خلافت۔ہر دعا سے قبل سورۃ فاتحہ حضرت مفتی محمد صادق صاحب فرمایا کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں میں ہمیشہ یہ کوشش کرتا تھا کہ ہر مجلس میں اور ہر موقعہ پر حضرت صاحب کے قریب ہو کر بیٹھوں بعض دفعہ جب کوئی دوست حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی خدمت میں دعا کی تحریک کرتے اور حضور اُسی مجلس میں دعا کے لئے ہاتھ اٹھاتے تو میں بہت قریب ہو کر یہ سنے کی کوشش کرتا کہ حضور کیا الفاظ منہ سے نکال رہے ہیں۔بار بار کے تجربہ سے مجھے یہ معلوم ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہر دعا میں سب سے پہلے سورہ فاتحہ ضرور پڑھتے تھے اور بعد میں کوئی اور دعا کرتے تھے۔سب کے واسطے دعا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی عادت تھی کہ ہر ایک دعا کے موقع پر اپنے خدا کو اپنی دعاؤں میں یاد کر لیا کرتے تھے۔ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ حضرت قاضی امیرحسین رضی اللہ عنہ کا ایک خوردسال بچہ فوت ہو گیا۔اس کے جنازہ کی نماز حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خود پڑھائی اور عموماً جنازوں کی نمازوں میں حضور خود ہی پیش امام ہوا کرتے تھے۔اس وقت قادیان میں جماعت تھوڑی تھی۔اس جنازہ میں شامل ہونے والے احباب کی تعداد ۱۴۔۱۵ کے قریب تھی۔نماز کے بعد ایک شخص نے عرض کیا حضور میرے واسطے دعا کریں۔تو حضور نے فرمایا کہ میں نے تو ابھی اس نماز میں سب کا جنازہ پڑھ دیا ہے۔اس کا مطلب یہ تھا کہ صرف میت اور اُس کے لواحقین کے لئے دعا نہیں کی تھی۔بلکہ جتنے لوگ جنازہ میں شامل ہوئے۔سب کے لئے دعا کر دی تھی۔