سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 502 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 502

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۰۲ حصہ پنجم ہی پڑھنا چاہیے اور قرآن شریف کا حصہ جو اس کے بعد پڑھا جاتا ہے وہ بھی عربی زبان میں ہی پڑھنا چاہیے اور اس کے بعد مقررہ دعائیں اور تسبیح بھی اسی طرح عربی زبان میں پڑھنی چاہئیں۔لیکن ان سب کا ترجمہ سیکھ لینا چاہیے۔اور ان کے علاوہ پھر اپنی زبان میں دعائیں مانگنی چاہئیں تا کہ حضور دل پیدا ہو جائے کیونکہ جس نماز میں حضور دل نہیں۔وہ نماز نہیں۔آج کل لوگوں کی عادت ہے کہ نماز تو ٹھو نگے دار پڑھ لیتے ہیں۔جلدی جلدی نماز ادا کر لیتے ہیں۔جیسا کہ کوئی بریگار ہوتی ہے۔پھر پیچھے سے لمبی لمبی دعائیں مانگنا شروع کرتے ہیں۔یہ بدعت ہے۔حدیث شریف میں کسی جگہ اس کا ذکر نہیں آیا کہ نماز سے سلام پھیر نے کے بعد پھر دعا کی جاوے۔نادان لوگ نماز کو تو ٹیکس جانتے ہیں اور دعا کو اس سے علیحدہ خیال کرتے ہیں نما ز خود دعا ہے۔دین و دنیا کی تمام مشکلات کے واسطے اور ہر ایک مصیبت کے وقت انسان کو نماز کے اندر دعائیں مانگنی چاہئیں۔نماز کے اندر ہر موقعہ پر دعا کی جاسکتی ہے۔رکوع میں بعد تنیج سجدہ میں بعد تسبیح۔التحیات کے بعد کھڑے ہو کر رکوع کے بعد بہت دعا ئیں کرو۔تا کہ مالا مال ہو جاؤ چاہیے کہ دعا کے وقت آستانہ الوہیت پر روح پانی کی طرح بہہ جاوے۔ایسی دعا دل کو پاک وصاف کر دیتی ہے۔یہ دعا میسر آئے۔تو پھر خواہ انسان چار پہر دعا میں کھڑا رہے۔گناہوں کی گرفتاری سے بچنے کے واسطے اللہ تعالیٰ کے حضور میں دعامانگنی چاہئیں۔دعا ایک علاج ہے جس سے گناہ کی زہر دور ہو جاتی ہے۔بعض نادان لوگ خیال کرتے ہیں کہ اپنی زبان میں دعا مانگنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے۔یہ غلط خیال ہے۔ایسے لوگوں کی نماز تو خود ہی ٹوٹی ہوئی ہے۔“ حقیقت دعا ایک دفعہ فرمایا۔”جب دعا اپنے کمال کو پہنچتی ہے تو اس کی حقیقت کی مثال ظلمی طور پر اس طرح ہے کہ گویا دعا کرنے والا خدا بن جاتا ہے اور اس کی زبان گویا خدا کی زبان ہوتی ہے۔۔۔66