سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 500
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۰۰ اور اگر یہ سچ ہے کہ تو نے ہی مجھے بھیجا ہے تو تو میری تائید میں اپنا کوئی ایسا نشان دکھلا کہ جو پبلک کی نظر میں انسانوں کے ہاتھوں اور انسانی منصوبوں سے برتر یقین کیا جائے تا لوگ سمجھیں کہ میں تیری طرف سے ہوں۔اے میرے قادر خدا! اے میرے تو انا اور سب قوتوں کے مالک خداوند ! تیرے ہاتھ کے برابر کوئی ہاتھ نہیں اور کسی جن اور بھوت کو تیری سلطنت میں شرکت نہیں۔دنیا میں ہر ایک فریب ہوتا ہے اور انسانوں کو شیاطین بھی اپنے جھوٹے الہامات سے دھوکہ دیتے ہیں مگر کسی شیطان کو یہ قوت نہیں دی گئی کہ وہ تیرے نشانوں اور تیرے ہیبت ناک ہاتھ کے آگے ٹھہر سکے یا تیری قدرت کی مانند کوئی قدرت دکھلا سکے۔کیونکہ تو وہ ہے جس کی شان لا إِله إِلَّا اللہ ہے اور جو الْعَلِيُّ الْعَظِیم ہے۔حصہ پنجم تریاق القلوب روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۵۰۷ تا ۵۱۰) صلوٰۃ اور دعا میں فرق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔ایک مرتبہ میں نے خیال کیا کہ صلوٰۃ میں اور نماز میں کیا فرق ہے۔حدیث شریف میں آیا ہے اَلصَّلوةُ هِيَ الدُّعَاءُ۔صلوۃ ہی دعا ہے۔الصَّلوةُ مُخُ الْعِبَادَةِ نماز عبادت کا مغز ہے۔جب انسان کی دعا محض دنیوی امور کے لئے ہو تو اس کا نام صلوا نہیں لیکن جب انسان خدا کو ملنا چاہتا ہے اور اس کی رضا کو مد نظر رکھتا ہے اور ادب، انکسار، تواضح اور نہایت محویت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور میں کھڑا ہو کر اس کی رضا کا طالب ہوتا ہے تب وہ صلوۃ میں ہوتا ہے۔اصل حقیقت دعا کی وہ ہے۔جس کے ذریعہ سے خدا اور انسان کے درمیان رابطہ تعلق بڑھے۔صلوٰۃ کا لفظ پُر سوز معنے پر دلالت کرتا ہے۔جیسے آگ سے سوزش پیدا ہوتی ہے۔ویسی ہی گدازش دعا میں پیدا ہونی چاہیے۔جب ایسی حالت کو پہنچ جائے جیسے موت کی حالت ہوتی ہے۔تب اس کا نام صلوۃ ہوتا ہے۔“