سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 492
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ الہ بخل اگر جائز ہوتا ۴۹۲ حصہ پنجم ایک دفعہ فرمایا کہ میں نے سوچا کہ بخل تو ناجائز ہے کسی حالت میں انسان کو خیال نہیں ہونا چاہیے۔لیکن اگر بخل جائز ہوتا تو وہ کون سی چیز ہے جس کے دینے یا بتلانے میں میں بخل کرتا۔میں نے بہت سوچا مگر کوئی چیز میری نظر میں ایسی نہ آئی جس پر بخل کرنے کو میرا دل چاہتا۔سوائے اس کے کہ میں اس بات کے بتلانے میں بخل کرتا کہ دعا کتنی بڑی شاندار نعمت ہے اور کس آسانی سے حاصل ہوسکتی ہے۔ایک خاص دعا ۲۵ فروری ۱۹۰۱ ء کا واقعہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا۔میں اس بات کے پیچھے لگا ہوا ہوں کہ اپنی جماعت کے واسطے ایک خاص دعا تو ہمیشہ کی جاتی ہے مگر ایک نہایت جوش کی دعا کرنا چاہتا ہوں جب اس کا موقعہ مل جاوے۔احباب کے واسطے دعا اس سے ظاہر ہے کہ خاص دعاؤں کا وقت اور موقع اور ہوتا ہے اور وہ ہمیشہ میسر نہیں ہوتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں دیکھا جاتا تھا کہ جب کوئی دوست رخصت ہونے کی اجازت چاہتا تھا۔تو فرمایا کرتے تھے۔” کیا آپ دو چار روز اور نہیں ٹھہر سکتے اور اکثر خدام کو زیادہ سے زیادہ وقت قادیان میں رہنے کی ترغیب دیتے حالانکہ بظا ہر کوئی کام ان کے ذمہ نہ ہوتا۔اس کی اصل غرض یہی تھی کہ سامنے رہنے سے دعا کے خاص موقعہ میں شامل ہو جا ناممکن ہوتا۔بذریعہ دعا شک کا ازالہ دعاؤں کے اثر پر آپ کو اس قدرا اعتماد تھا کہ آپ نے اپنے نہ ماننے والوں کو بھی ایک دعا ہی سکھائی جس سے ان پر حق ظاہر ہو سکے فرماتے ہیں بطور تبلیغ کے لکھتا ہوں کہ حق کے طالب جو مواخذہ الہی سے ڈرتے ہیں وہ بلا تحقیق اس زمانے کے مولویوں کے پیچھے نہ چلیں اور آخری زمانہ کے