سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 484 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 484

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ الہ ۴۸۴ حصہ پنجم فرماتے ہیں گالیاں سن کے دعا دیتا ہوں ان لوگوں کو رحم ہے جوش میں اور غیظ گھٹایا ہم نے اور یہی تعلیم بار بار آپ نے اپنی جماعت کو دی چنا نچہ فرمایا اے میرے پیارو شکیب و صبر کی عادت کرو اگر پھیلائیں بدبو تم بنو مشک تتار نفس کو مارو کہ اس جیسا کوئی دشمن نہیں چپکے چپکے کرتا ہے پیدا وہ سامان دمار جس نے نفس دوں کو ہمت کر کے زیر پا کیا وہ چیز کیا ہیں اسکے آگے رستم و اسفند یار گالیاں سن کے دعا دو پاکے دکھ آرام دو کبر کی عادت جو دیکھو تم دکھاؤ انکسار خیر خواہی میں جہاں کی خوں کیا ہم نے جگر جنگ بھی تھی صلح کی نیت سے اور کیس سے فرار غرض آپ کی ہمدردی اور خیر خواہی کا دامن دعا کی صورت میں اس قدر وسیع اور فراخ تھا کہ سیاہ دل دشمن بھی اس میں امن پاتے تھے اور آپ ان کے لئے بھی دعا کرتے تھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی اور آپ کے اعمال پر اگر غامر نظر کی جاوے تو جو چیز آپ کے اعمال میں نمایاں نظر آتی ہے وہ آپ کی دعاؤں کی کثرت ہے۔ہرامر کے لئے آپ کا سہارا دعا تھی اور دشمن کے مقابلہ کے لئے آپ نے جس حربہ سے کام لیا