سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 483
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۸۳ حصہ پنجم فرمائی اس میں جماعت کو اخلاق کے جس بلند منار پر آپ لے جانا چاہتے ہیں اور آپ کی رافت و رحمت کا دامن کس قدر وسیع ہے اس کا اندازہ ان ارشادات سے ہوتا ہے فرمایا۔” میرا تو یہ مذہب ہے کہ دعا میں دشمنوں کو بھی باہر نہ رکھے۔جس قدر دعا وسیع ہوگی اسی قدر فائدہ دعا کرنے والے کو ہوگا اور دعا میں جس قد ر بخل کرے گا۔اسی قدر اللہ تعالیٰ کے قرب سے دُور ہوتا جاوے گا اور اصل تو یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے عطیہ کو جو بہت وسیع ہے جو شخص محدود کرتا ہے اس کا ایمان بھی کمزور ہے۔“ ( ملفوظات جلد اوّل صفحه ۳۵۳ مطبوعه ر بوه ) ان الفاظ پر غور کرو کہ یہ آپ کے قلب کی وسعت کا پتہ دیتے ہیں ہمدردی اور خیر خواہی کا یہ مقام ہر شخص کو حاصل نہیں ہو سکتا۔یہ مقام انہیں پاک نفوس کو دیا جاتا ہے جن کو خدائے تعالیٰ اپنے ہاتھ سے مسح کرتا ہے اور پاک کر دیتا ہے حضرت مسیح موعود کا یہ ارشاد کہ دشمنوں کے لئے بھی دعا کرو۔مسیح ناصری علیہ الصلوۃ والسلام کے اس مقولہ سے بہت بڑھ کر ہے کہ دشمنوں سے پیار کرو“۔دشمن سے پیار کرو کے الفاظ بظاہر خوش گن معلوم ہوتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ دشمن کے تصور کے ساتھ ہی پیار کے جذبات دب جاتے اور انتقام اور نفرت کے جذبات میں جوش اور ہیجان پیدا ہوتا۔ہوتا ہے۔لیکن دعا کی تحریک تو انتہائی غصہ کی حالت میں بھی پیدا ہوسکتی ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ فطرتی رنگ بعینہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عملی رنگ ہے چنانچہ یہ تاریخی مشہور واقعہ ہے کہ جب حضور علیہ الصلوۃ والسلام پر طائف کے شریروں نے حملہ کیا اور پتھر مار مار کر آپ کو لہولہان اور زخمی کر دیا اور اس حالت میں آپ نے ان کے لئے بددعا نہیں کی بلکہ ان کی ہدایت کے لئے دعا فرمائی کہ اے میرے اللہ ان کو ہدایت فرما کیونکہ یہ جانتے نہیں۔آپ کی زندگی میں یہ عملی رنگ ہمیشہ نمایاں تھا ایک موقعہ پر اپنے اس طرز عمل کا یوں اظہار