سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 24
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۴۔سے انکار نہیں کرتے بلکہ انہیں ماننا پڑتا ہے کہ جس جواد مطلق نے عالم اول کے ادنی ادنیٰ امور کے دریافت کرنے کے لئے انسان کو حواس وطاقتیں عنایت کی ہیں وہ تیسرے عالم کے معظم اور عالی شان امور کے دریافت سے جس سے حقیقی اور کامل تعلق خدائے تعالیٰ سے پیدا ہوتا ہے اور کچی اور یقینی معرفت حاصل ہو کر اسی دنیا میں انوار نجات نمایاں ہو جاتے ہیں کیوں انسان کو محروم رکھتا بے شک یہ طریق بھی دوسرے دونوں طریقوں کی طرح کھلا ہوا ہے اور صادق لوگ بڑے زور سے اس پر قدم مارتے ہیں اور اس کو پاتے ہیں اور اس کے ثمرات حاصل کرتے ہیں عجائبات اس عالم ثالث کے بے انتہا ہیں اور اس کے مقابل پر دوسرے عالم ایسے ہیں جیسے آفتاب کے مقابل پر ایک دانہ خشخاش۔اس بات پر زور لگانا کہ اس عالم کے اسرار عقلی طاقت سے بکلی منکشف ہو جائیں یہ ایسا ہی ہے جیسے ایک انسان آنکھوں کو بند کر کے مثلاً اس بات پر زور لگائے کہ وہ قابل رؤیت چیزوں کو قوت شامہ کے ذریعہ سے دیکھ لے بلکہ عجائبات عالم باطن در باطن سے عقل ایسی حیران ہے کہ کچھ دم نہیں مارسکتی کہ یہ کیا بھید ہے۔روحوں کی پیدائش پر انسان کیوں تعجب کرے اسی دنیا میں صاحب کشف پر ایسے ایسے اسرار ظاہر ہوتے ہیں کہ ان کی کنہ کو سمجھنے میں بکلی عقل عاجز رہ جاتی ہے۔بعض اوقات صاحب کشف صدہا کوسوں کے فاصلہ سے باوجود حائل ہونے بے شمار حجابوں کے ایک چیز کو صاف صاف دیکھ لیتا ہے بلکہ بعض اوقات عین بیداری میں باز نہ تعالیٰ اس کی آواز بھی سن لیتا ہے اور اس سے زیادہ تر تعجب کی یہ بات ہے کہ بعض اوقات وہ شخص بھی اس کی آواز سن لیتا ہے جس کی صورت اس پر منکشف ہوئی ہے۔بعض اوقات صاحب کشف اپنے عالم کشف میں جو بیداری سے نہایت مشابہ ہے ارواح گزشتہ سے ملاقات کرتا ہے اور عام طور پر ملاقات ہر یک نیک بخت روح یا بد بخت روح کے کشف قبور کے طور پر ہوسکتی ہے چنانچہ خود اس میں مؤلف رسالہ ہذا صاحب تجربہ ہے اور یہ امر حصّہ اوّل