سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 481
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۸۱ حصہ پنجم اس سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعاؤں کے اس پہلو پر روشنی پڑتی ہے جو وہ اپنی جماعت کے لئے کرتے تھے۔اور جسے وہ اپنی زندگی کا سب سے اعلیٰ مقصد سمجھتے رہے ہیں۔کون وہ دل ہے جو اس حقیقت کو پالے اور وہ بیتاب ہو کر ایسے حسن پر درودنہ پڑھے۔دوستو ! یہی وہ چیز ہے۔اور یہی وہ حقیقت ہے۔جس کی طرف آپ کو بار بار غور کرنا چاہیے۔اس سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے سچی محبت پیدا ہوگی۔اور یہی محبت نجات کا ذریعہ ہے کیونکہ خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر یہ وحی بھیجی تھی۔إن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ الله - حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعاؤں کے بعض مختلف پہلوؤں کا ذکر میں نے کیا ہے اب میں ایک اور خاص پہلو کا ذکر کرتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت حضرت نبی کریم ﷺ ہی کی بعثت ہے۔اس لئے آپ کے وجود میں رحمت اور رافت کا رنگ بہت غالب ہے۔اور میں آپ کی دعاؤں کےسلسلے میں انشاء اللہ یہ بتاؤں گا کہ آپ کی دعاؤں کا سلسلہ مخلوق الہی کے لئے کس قدر وسیع ہے۔مگر یہاں جس امر کا ذکر کرنا چاہتا ہوں۔وہ یہ ہے کہ آپ نے اپنے دشمنون کے لئے بھی کبھی بد دعا نہیں کی۔یہاں تک کہ امرتسر میں عبد الحق غزنوی سے جو مباہلہ ہوا تھا اس میں بھی آپ نے اس کے لئے بددعا نہیں کی۔بلکہ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کیا ، کہ اگر میں مفتری ہوں اور تیری طرف سے نہیں آیا۔تو مجھ پر ایسا عذاب نازل کر کہ کسی مفتری پر نازل نہ ہوا ہو۔اور یہی وہ فقرات تھے جس نے امرتسر کی عید گاہ میں ایک فضائے رقت پیدا کر دی تھی اور میدانِ بکا بن گیا تھا۔اسی فقرہ نے حافظ محمد یوسف ضلع دار کے بھائی حافظ محمد یعقوب پر ایسا اثر ڈالا کہ وہ کود کر آگے آیا کہ میری بیعت قبول کریں یہ گویا اس مباہلہ کی کامیابی کا پہلا نشان تھا۔غرض آپ نے کبھی اپنے دشمن کے لئے بھی بد دعا نہیں کی جہاں تک میری تحقیقات ہے دو موقعے ایسے نظر آتے ہیں۔لیکن ان میں بھی بددعا کی صورت نہیں۔