سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 477 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 477

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام حصہ پنجم اضطراب اپنے قلب میں پاتے ہیں اور اس منزل مقصود کو حاصل کرنے کے لئے آپ کا قلب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی انتہائی محبت اور عشق سے معمور نظر آتا ہے اور ایسا نظر آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن و احسان کو دیکھ کر آپ کے عمل میں وہ کیفیت پیدا ہوگئی کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے لئے ایک غیرت اور صداقت اسلام کے اظہار کے لئے نہ رکنے والا جوش پیدا ہو گیا ہے اور یہ جوش آپ کی بعثت اور ماموریت کے زمانہ کو قریب کرتا گیا غرض آپ کے اس عہد صعود کی دعاؤں میں اپنی بے کسی اور خاکساری اور اپنی کمزوریوں کا اعتراف اللہ تعالیٰ کی حمد اور اس کی لا انتہا قدرتوں اور طاقتوں پر لذیذ ایمان ( آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت و عشق اور حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے محامد ومحاسن جو عشق محمدی کو ترقی دیں) کے مناظر نظر آتے ہیں۔عہد بعثت کی دعا ئیں عہد ماموریت میں آپ کی دعاؤں میں ایک نئی شان پیدا ہو جاتی ہے انہیں اسلام کی ترقی اور عظمت کے اظہار کے لئے جوش اور منکرین اسلام پر اتمام حجت کی پر شوکت تحدیوں اور نشانات کی طلب۔اپنی سچائی اور منجانب اللہ ہونے پر معرفت اور بصیرت افروز حقائق کا ادعا ہے اور منکرین اسلام کو متحد یا نہ رنگ میں اور مسلمانوں کو بیدار کرنے اور ان میں کچی حمیت اور اخلاص پیدا کرنے پر الہی نصرتوں کو پکارا گیا ہے پھر اس عہد کی دعاؤں کو جب ہم دیکھتے ہیں تو ان میں اسلام اور مسلمانوں کی موجودہ حالت پر اس قدر ہم و غم آپ کے قلب پر معلوم ہوتا ہے کہ بعض اوقات ان افکار میں بے اختیار ہو کر پکارا ٹھتے ہیں ؎ ایس دو فکرِ دین احمد مغز جان ما گداخت کثرتِ اعدائے ملت قلت انصارِ دیں یہ ہم وغم اپنی کیفیت اور کمیت کے لحاظ سے ایسا ہے کہ اگر ساری دنیا کے مسلمانوں کے ہم وغم کو ترازو کے ایک پلڑے میں رکھ دیا جائے اور آپ کے احساسات و ہموم کو ایک طرف تو آپ کا پلہ بھاری رہے گا۔☆ کا ترجمہ۔دین احمد کے متعلق ان دو فکروں نے میری جان کا مغز گھلا دیا اعدائے ملت کی کثرت اور انصار دین کی قلت۔