سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 476
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام حصہ پنجم خود آپ کو قبولیت دعا کا بہت بڑا نشان دیا گیا اور اس کے لئے آپ نے ہر قسم کے مخالفین پر اتمام حجت کیا۔عیسائیوں، برہموؤں ، آریوں اور اسلام کے ہر مخالف کو یہ دعوت دی اور آپ کی دعاؤں کا انکار جن لوگوں نے کیا ان کو بھی اس مقابلہ کے لئے بلا یا مگر سے آزمائش کے لئے کوئی نہ آیا ہر چند ہر مخالف کو مقابل پہ بلایا ہم نے اور اگر کوئی شخص اس مقابلہ میں آگے آیا تو وہ قابل سزا ہو کر آپ کی صداقت کا ایک نشان ٹھہر گیا۔جیسا کہ میں نے پہلے بھی بیان کیا ہے۔اس حصہ میں مجھے آپ کی دعاؤں کے آئینہ میں آپ کی سیرت و شمائل کو بیان کرنا ہے۔ابتدائی دور کی دعائیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی کو میں دو دوروں میں تقسیم کرتا ہوں پہلا دور آپ کی ابتدائی زندگی کا ہے جب تک آپ مبعوث نہیں ہوئے تھے میں اس دور کو عہد صعود کہتا ہوں۔انبیاء علیہم السلام اور خدائے تعالیٰ کے مامورین و مرسلین کی زندگی کا پہلا دور دو ر صعود ہوتا ہے اس عہد میں وہ اپنی روحانی ترقیات میں اوپر کی طرف جاتے ہیں اور خدائے تعالیٰ کے قرب کی منزلیں طے کرتے ہیں وہ دنیا اس کے مالوفات حتی کہ اپنے نفس سے بھی بے پروا ہوتے ہیں اور جب وہ قرب الہی کے اس مقام کو پالیتے ہیں جو ان کا منتہائے نظر ہوتا ہے۔تب اللہ کی تجلیات کا مظہر ہو کر وہ عالم ناسوت کی طرف نزول کرتے ہیں اور جس جس قدر وہ عالم ناسوت کی طرف آتے جاتے ہیں اسی قدر مخلوق الہی کے لئے اپنے دل میں درد اور اضطراب کو ترقی کرتے ہوئے محسوس کرتے ہیں اور ان کی ہر حرکت اور سکون خدائے تعالیٰ کی مخلوق اور انسانیت کے لئے بالخصوص ہو جاتی ہے۔یہ ایک علمی مضمون ہے اس مقام پر میں اس کی تفصیلات میں جانا نہیں چاہتا بلکہ اس کے لئے سیرت المہدی کے اس باب میں جگہ ہے جہاں آپ کے علوم پر بحث ہے یہاں مجھے اسی قدر بیان کرنا ہے جب آپ اسی عہد صعود کی منازل سلوک کو طے کر رہے تھے اس عہد کی دعاؤں میں یہ مشاہدہ ہوتا ہے کہ آپ حضرت باری کے ساتھ محبت واخلاص اور عبودیت کے اعلیٰ مقام پر پہنچنے کی ایک تڑپ اور