سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 475 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 475

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۷۵ اور اس امتحان میں وہ نہایت کامیاب اور مستقیم الاحوال ثابت ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آپ کو بار بار لکھا کہ ”میرے نزدیک بہتر ہے کہ آپ بھی اس تشویش کے وقت اکیس مرتبہ کم سے کم استغفاراورسومر تبہ درود شریف پڑھ کر اپنے لئے دعا کر لیا کریں۔“ مکتوبات احمد یہ جلد پنجم حصہ امکتوب نمبر ۲۷صفہ ۱ مورخ ۱۳ نومبر ۱۸۹۷ء۔مکتوبات احمد جلد۲ صفر ۳۶۲ مطبوعہ ۶۲۰۰۸) اسی قسم کی ہدایات بار ہا لکھیں اور وہ اس پر عمل کرتے تھے چنانچہ خدائے تعالیٰ نے سیٹھ صاحب مرحوم کو اطمینان قلب عطا فرمایا اور استقامت اور رحمت کے فرشتے ان پر نازل ہوئے اور وہ ان پرفتن ابتلاؤں میں خدائے تعالیٰ کی رضا پر راضی رہے۔اور یہ اس درود شریف کی برکت اور خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعا ئیں تھیں۔آپ کی زندگی کا مقصد ایک مکتوب میں آپ فرماتے ہیں۔یہ عاجز اپنی زندگی کا مقصد اعلیٰ یہی سمجھتا ہے کہ اپنے لئے اور اپنے عزیزوں اور دوستوں کے لئے ایسی دعائیں کرنے کا وقت پاتار ہے کہ جو رب العرش تک پہنچ جائیں اور 66 دل تو ہمیشہ تڑپتا ہے کہ ایسا وقت ہمیشہ میسر آجایا کرے مگر یہ بات اپنے اختیار میں نہیں۔“ مکتوبات احمد یہ جلد اصفحہ ۲۱ مکتوب نمبر ۱۵ بنام میر عباس علی صاحب - مکتوبات احمد جلد اصفحه ۵۳۰ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) یہ اس عہد کی باتیں تھیں کہ جب آپ خدائے تعالیٰ کی طرف سے بیعت لینے پر مامور نہیں تھے اور نہ آپ نے کوئی دعویٰ مسیح و مہدی کا کیا تھا۔ایک خلوت کی زندگی بسر کر رہے تھے اور آپ کی ساری مرادیں اسی امر پر مرکوز تھیں کہ خدائے تعالیٰ کی رضا کا عالی مقام حاصل ہو دعاؤں کے متعلق آپ نے ایسے اصول تعلیم فرمائے کہ جن سے دعاؤں کا فلسفہ ان کی قبولیت کا راز اور اس کے اسباب و وسائل عام فہم الفاظ میں بیان کر دئیے اور ایک جماعت دنیا میں پیدا کر دی جو دعاؤں کی قبولیت کا زندہ اور مجسم نشان ہے