سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 474
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام حصہ پنجم بناوٹ نہ ہو بلکہ چاہئے کہ حضرت نبی کریم سے سچی دوستی اور محبت ہو اور فی الحقیقت روح کی سچائی سے وہ برکتیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مانگی جائیں کہ جو در و دشریف میں مذکور ہیں۔اگر چہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوکسی دوسرے کی دعا کی حاجت نہیں لیکن اس میں ایک نہایت عمیق بھید ہے۔جو شخص ذاتی محبت سے کسی کیلئے رحمت اور برکت چاہتا ہے وہ باعث علاقہ ذاتی محبت کے اُس شخص کے وجود کی ایک جز ہو جاتا ہے۔اور چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر فیضان حضرت احدیت کے بے انتہا ہیں اس لئے درود بھیجنے والوں کو کہ جو ذاتی محبت سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے برکت چاہتے ہیں بے انتہا برکتوں سے بقدر اپنے جوش کے حصہ ملتا ہے۔مگر بغیر روحانی جوش اور ذاتی محبت کے یہ فیضان بہت ہی کم ظاہر ہوتا ہے اور ذاتی محبت کی یہ نشانی ہے کہ انسان کبھی نہ تھکے اور نہ کبھی ملول ہو اور نہ اغراض نفسانی کا دخل ہو اور محض اسی غرض کے لئے پڑھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر خداوند کریم کے برکات ظاہر ہوں۔“ ( مکتوبات احمد یہ جلدا مکتوب نمبر ۶ صفحه ۲۴، ۲۵ بنام میر عباس علی صاحب - مکتوبات احمد جلد اصفحه ۵۳۵،۵۳۴مطبوعہ ۲۰۰۸ء) مندرجہ اقتباسات سے اظہر من الشمس ہے کہ آپ نے جو فرمایا کہ ”من دعا ہائے بروبار تو اے باغ بہار تو اس کی حقیقت ان برکات اور فیوضات کا اجر اور تکمیل ہے جو حضور علیہ الصلواۃ والسلام کے ذریعہ اور آپ کے اقتدا اور آپ کی محبت سے ظاہر ہوتے ہیں جن کا آپ خود ایک پیکر تھے اور جس حقیقت کو نادان نے نہ سمجھ کر جو چاہا کہا ہر قسم کی ترقیات روحانی اور ہر قسم کے افکار و مشکلات جسمانی کا حل آپ نے درود شریف ہی کو بتایا ہے۔جب بھی آپ کے خدام نے اپنی مشکلات و مصائب کا رونا آپ سے رویا تو آپ نے اسی بے خطا نسخہ کی طرف ان کو توجہ دلائی۔آپ کے مخلص خدام میں حضرت سیٹھ عبد الرحمن مدراسی رضی اللہ عنہ بڑے ہی مخلص اور جاں نثار بزرگ تھے وہ بہت بڑے تاجر اور صاحب مال و دولت تھے ان پر مالی اور تجارتی ابتلاؤں کا ایک لمبا سلسلہ آیا۔