سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 473
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۷۳ حصہ پنجم کیلئے دلی صدق سے حاضر ہو۔اور کوئی ایسی مصیبت عقل یا قوت واہمہ پیش نہ کر سکے کہ جس کے اُٹھانے سے دل رک جائے اور کوئی ایسا حکم عقل پیش نہ کر سکے کہ جس کی اطاعت سے دل میں کچھ روک یا انقباض پیدا ہو اور کوئی ایسا مخلوق دل میں جگہ نہ رکھتا ہو جو اُس جنس کی محبت میں حصہ دار ہو اور جب یہ مذہب قائم ہو گیا تو درود شریف ، جیسا کہ میں نے زبانی بھی سمجھایا تھا، اس غرض سے پڑھنا چاہئے کہ تا خداوند کریم اپنی کامل برکات اپنے نبی کریم پر نازل کرے اور اُس کو تمام عالم کے لئے سرچشمہ برکتوں کا بناوے اور اُس کی بزرگی اور اُس کی شان وشوکت اس عالم اور اس عالم میں ظاہر کرے۔یہ دعا حضور نام سے ہونی چاہئے جیسے کوئی اپنی مصیبت کے وقت حضور تام سے دعا کرتا ہے بلکہ اُس سے بھی زیادہ تضرع اور التجا کی جائے اور کچھ اپنا حصہ نہیں رکھنا چاہئے کہ اس سے مجھ کو یہ ثواب ہوگا یا یہ درجہ ملے گا بلکہ خالص یہی مقصود چاہئے کہ برکات کا ملہ الہیہ حضرت رسول مقبول پر نازل ہوں اور اُس کا جلال دنیا اور آخرت میں چمکے اور اسی مطلب پر انعقاد ہمت چاہئے۔اور دن رات دوام توجہ چاہئے یہاں تک کہ کوئی مراد اپنے دل میں اس سے زیادہ نہ ہو۔پس جب اس طور پر یہ درود شریف پڑھا گیا تو وہ رسم اور عادت سے باہر ہے اور بلاشبہ اس کے عجیب انوار صادر ہوں گے اور حضور تام کی ایک یہ بھی نشانی ہے کہ اکثر اوقات گریہ و بکا ساتھ شامل ہو۔اور یہاں تک یہ توجہ رگ وریشہ میں تا خیر کرے کہ خواب اور بیداری یکساں ہو جائے۔“ مکتوبات احمد یہ جلد اول مکتوب نمبر ۹ صفحه ۴۰۱۳ ابنام میر عباس علی صاحب - مکتوب احمد جلد اصفه۵۲۳٬۵۲۲ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) پھر ایک دوسرے مکتوب میں فرماتے ہیں۔پنے ”آپ درود شریف کے پڑھنے میں بہت ہی متوجہ رہیں اور جیسا کوئی ا۔پیارے کیلئے فی الحقیقت برکت چاہتا ہے ایسے ہی ذوق اور اخلاص سے نبی کریم کے لئے برکت چاہیں اور بہت ہی تضرع سے چاہیں اور اُس تضرع اور دعا میں کچھ