سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 23 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 23

سیرت حضرت مسیح موعود علیہا ۲۳ (۳) عالم باطن در باطن جو ایسا نازک اور لا یدرک و فوق الخیالات عالم ہے جو تھوڑے ہیں جو اس سے خبر رکھتے ہیں وہ عالم غیب محض ہے جس تک پہنچنے کے لئے عقلوں کو طاقت نہیں دی گئی مگر ظن محض۔اور اس عالم پر کشف اور وحی اور الہام کے ذریعہ سے اطلاع ملتی ہے نہ اور کسی ذریعہ سے اور جیسی عادت اللہ بدیہی طور پر ثا بت اور متحقق ہے کہ اس نے ان دو پہلے عالموں کے دریافت کرنے کے لئے جن کا اوپر ذکر ہو چکا ہے انسان کو طرح طرح کے حواس و قوتیں عنایت کی ہیں۔اسی طرح اس تیسرے عالم کے دریافت کرنے کے لئے بھی اس فیاض مطلق نے انسان کے لئے ایک ذریعہ رکھا ہے اور وہ ذریعہ وحی اور الہام اور کشف ہے جو کسی زمانہ میں بکتی بند اور موقوف نہیں رہ سکتا بلکہ اس کے شرائط بجالانے والے ہمیشہ اس کو پاتے رہے ہیں اور ہمیشہ پاتے رہیں گے۔چونکہ انسان ترقیات غیر محدودہ کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور خدائے تعالیٰ بھی عیب بخل و امساک سے بکلی پاک ہے۔پس اس قوی دلیل سے ایسا خیال بڑا نا پاک خیال ہے جو یہ سمجھا جائے جو خدائے تعالیٰ نے انسان کے دل میں تینوں عالموں کے اسرار معلوم کرنے کا شوق ڈال کر پھر تیسرے عالم کے وسائل وصول سے بکلی اس کو محروم رکھا ہے۔پس یہ وہ دلیل ہے جس سے دانشمند لوگ دائمی طور پر الہام اور کشف کی ضرورت کو یقین کر لیتے ہیں اور آریوں کی طرح چار رشیوں پر الہام کو ختم نہیں کرتے جن کی مانند کوئی پانچواں اس کمال تک پہنچنا ان کی نظر عجیب میں ممکن ہی نہیں بلکہ عقلمند لوگ خدائے تعالیٰ کے فیاض مطلق ہونے پر ایمان لا کر الہامی دروازوں کو ہمیشہ کھلا سمجھتے ہیں اور کسی ولایت اور ملک سے اس کو مخصوص نہیں رکھتے ہاں اس صراط مستقیم سے مخصوص رکھتے ہیں جس پر ٹھیک ٹھیک چلنے سے یہ برکات حاصل ہوتے ہیں۔کیونکہ ہر یک چیز کے حصول کے لئے یہ لازم پڑا ہوا ہے کہ انہیں قواعد اور طریقوں پر عمل کیا جائے جن کی پابندی سے وہ چیز مل سکتی ہے۔غرض عقلمند لوگ عالم کشف کے عجائبات حصّہ اوّل