سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 472 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 472

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام حصہ پنجم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ملفوظات و مکتو بات کو جب ہم غور سے پڑھتے ہیں تو درود شریف کے برکات اس کے پڑھنے کا طریق اوقات خصوصی اور اس کے خاص ثمرات کی تفاصیل ملتی ہیں۔خود آپ کا معمول تو اس کثرت سے تھا کہ اس کا شمار ناممکن ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ آپ کی نمازوں میں اہم دعا یہی تھی خواہ وہ کسی رنگ میں ہو وہ دوسروں کی ہدایت کی تڑپ اپنے اندر رکھتی ہو اپنے دوستوں کی بھلائی اور مخلوق الہی کی بہتری کا پہلو لئے ہوا اپنی اولا دیا عزیزوں کے لئے ہوان سب میں اصل چیز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کامیابی اور جلال کا ظہور مقصود تھا۔چنانچہ ایک جگہ فرماتے ہیں۔ہر کسے اندر نماز خود دعائے مے کند من دعا ہائے بر و بار تو اے باغ بہار یعنی ہر شخص اپنی نماز میں اپنا کوئی مقصد رکھتا ہے لیکن میرا مقصد وحید حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے مراتب و مدارج کے ترقیات اور آپ کے کمالات آپ کے مقصد بعثت کی کامیابی اور ثمرات کے لئے ہیں اور یہی درود شریف کا مفہوم ہے چنانچہ آپ ایک مکتوب میں ( جو میں نے مکتوبات احمد یہ جلد اول میں درج کر دیا ہے ) لکھتے ہیں۔دو درود شریف اس طور پر نہ پڑھیں کہ جیسا عام لوگ طوطے کی طرح پڑھتے ہیں۔نہ اُن کو جناب حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ کامل خلوص ہوتا ہے اور نہ وہ حضور نام سے اپنے رسول مقبول کیلئے برکات الہی مانگتے ہیں بلکہ درود شریف سے پہلے اپنا یہ مذہب قائم کر لینا چاہئے کہ رابطہ محبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس درجہ تک پہنچ گیا ہے کہ ہرگز اپنا دل یہ تجویز نہ کر سکے کہ ابتداء زمانہ سے انتہا تک کوئی ایسا فرد بشر گزرا ہے جو اس مرتبہ محبت سے زیادہ محبت رکھتا تھا یا کوئی ایسا فرد آنے والا ہے جو اس سے ترقی کرے گا اور قیام اس مذہب کا اس طرح پر ہو سکتا ہے کہ جو کچھ محبان صادق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں مصائب اور شدائد اُٹھاتے رہے ہیں یا آئندہ اُٹھا سکیں یا جن جن مصائب کا نازل ہونا عقل تجویز کر سکتی ہے۔وہ سب کچھ اُٹھانے