سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 467 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 467

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۶۷ چمٹ جاتے ہیں۔غرض یہ کہ خواہشات انسانی سب پر صاد نہیں کر سکتے کہ سب صحیح ہیں۔چونکہ انسان سہو اور نسیان سے مرکب ہے، اس لئے ہونا چاہیے اور ہوتا ہے کہ بعض خواہش مضر ہوتی ہے اور اگر اللہ تعالیٰ اس کو منظور کر لے تو یہ امر منصب رحمت کے صریح خلاف ہے۔یہ ایک سچا اور یقینی امر ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی دعاؤں کو سنتا ہے اور ان کو قبولیت کا شرف بخشتا ہے۔مگر ہر رطب و یابس کو نہیں۔کیونکہ جوش نفس کی وجہ سے انسان انجام اور مال کو نہیں دیکھتا اور دعا کرتا ہے مگر اللہ تعالیٰ جو حقیقی بہی خواہ مال بین ہے ان مضرتوں اور بدنتائج کوملحوظ رکھ کر جو اس دعا کے تحت میں بصورت قبول دائی کو پہنچ سکتے ہیں اسے رد کر دیتا ہے۔“ (۱۳) دعا کا اصل مقصد اطمینان قلب ( ملفوظات جلد اوّل صفحہ ۶۷ مطبوعہ ربوہ ) بعض لوگ۔ناقل ) جو اپنی نظر خطا کار کی وجہ سے یہ اعتراض کر بیٹھتے ہیں کہ بہتیرے ایسے آدمی نظر آتے ہیں کہ باوجود اس کے کہ وہ اپنے حال اور قال سے دعا میں فنا ہوتے ہیں پھر بھی اپنے مقاصد میں نائر اور بہتے اور نامر ادمرتے ہیں اور بمقابل ان کے ایک اور شخص ہوتا ہے کہ نہ دُعا کا قائل نہ خدا کا قائل وہ اُن پر فتح پاتا ہے اور بڑی بڑی کامیابیاں اُس کو حاصل ہوتی ہیں۔سوجیسا کہ ابھی میں نے اشارہ کیا ہے اصل مطلب دُعا سے اطمینان اور تسلی اور حقیقی خوشحالی کا پانا ہے۔اور یہ ہرگز صحیح نہیں کہ ہماری حقیقی خوشحالی صرف اُسی امر میں میسر آ سکتی ہے جس کو ہم بذریعہ دعا چاہتے ہیں بلکہ وہ خدا جو جانتا ہے کہ ہماری حقیقی خوشحالی کس امر میں ہے وہ کامل دعا کے بعد ہمیں عنایت کر دیتا ہے جو شخص رُوح کی سچائی سے دعا کرتا ہے وہ ممکن نہیں کہ حقیقی طور پر نامراد رہ سکے بلکہ وہ خوشحالی جو نہ صرف دولت سے مل سکتی ہے اور نہ حکومت سے اور نہ صحت سے بلکہ خدا کے ہاتھ میں ہے جس پیرایہ میں چاہے وہ عنایت کر سکتا ہے ہاں وہ کامل