سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 466
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۶۶ حصہ پنجم (۱۱) دعا سے کیا ملتا ہے اگر یہ دعا نہ ہوتی تو کوئی انسان خدا شناسی کے بارے میں حق الیقین تک نہ پہنچ سکتا۔دُعا سے الہام ملتا ہے۔دُعا سے ہم خدا تعالیٰ کے ساتھ کلام کرتے ہیں۔جب انسان اخلاص اور توحید اور محبت اور صدق اور صفا کے قدم سے دعا کرتا کرتا فنا کی حالت تک پہنچ جاتا ہے تب وہ زندہ خدا اُس پر ظاہر ہوتا ہے جولوگوں سے پوشیدہ ہے۔“ (ایام الصلح روحانی خزائن جلد نمبر ۴ صفحه ۲۳۹) فرماتے ہیں آں خدائے کہ از وخلق جہاں بے خبراند بر من او جلوه نمود است گر اہلی به پذیر (۱۲) قبولیت دعا کے متعلق ایک اصول دعا کا اصول یہی ہے۔اللہ تعالیٰ قبول دعا میں ہمارے اندیشہ اور خواہش کے تابع نہیں ہوتا ہے۔دیکھو بچے کس قدر اپنی ماؤں کو پیارے ہوتے ہیں اور وہ چاہتی ہے کہ ان کو کسی قسم کی تکلیف نہ پہنچے، لیکن اگر بچے بیہودہ طور پر اصرار کریں اور روکر تیز چاقو یا آگ کا روشن اور چمکتا ہوا انگار مانگیں، تو کیا ماں باوجود سچی محبت اور حقیقی دلسوزی کے کبھی گوارا کرے گی کہ اس کا بچہ آگ کا انگارہ لے کر ہاتھ جلالے یا چاقو کی تیز دھار پر ہاتھ مار کر ہاتھ کاٹ لے؟ ہر گز نہیں۔اسی اصول سے اجابت دعا کا اصول سمجھ سکتے ہیں۔میں خود اس امر میں ایک تجربہ رکھتا ہوں کہ جب دعا میں کوئی جزو مضر ہوتا ہے تو وہ دعا ہر گز قبول نہیں ہوتی ہے۔یہ بات خوب سمجھ میں آ سکتی ہے کہ ہمارا علم یقینی اور صحیح نہیں ہوتا۔بہت سے کام نہایت خوشی سے مبارک سمجھ کر کرتے ہیں اور اپنے خیال میں ان کا نتیجہ بہت ہی مبارک خیال کرتے ہیں، مگر انجام کار وہ ایک غم اور مصیبت ہو کر ترجمہ۔وہ خدا جس سے دنیا کے لوگ بے خبر ہیں اس نے مجھ پر تجلی کی ہے۔اگر تو عقلمند ہے تو مجھے قبول کر۔