سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 465
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام مخالف ہے، کیونکہ یہ مرتبہ دعا کا اللہ ہی کے لئے ہے۔جب تک انسان پورے طور پر حنیف ہو کر اللہ تعالیٰ ہی سے سوال نہ کرے اور اُسی سے نہ مانگے۔سچ سمجھو کہ وہ حقیقی طور پر سچا مسلمان اور سچا مومن کہلانے کا مستحق نہیں۔اسلام کی حقیقت ہی یہ ہے کہ اس کی تمام طاقتیں اندرونی ہوں یا بیرونی، سب کی سب اللہ تعالیٰ ہی کے آستانہ پر گری ہوئی ہوں۔جس طرح پر ایک بڑا انجن بہت سے گلوں کو چلاتا ہے۔پس اسی طور پر جب تک انسان اپنے ہر کام اور ہر حرکت و سکون کو اُس انجن کی طاقتِ عظمی کے ماتحت نہ کر لیوے وہ کیونکر اللہ تعالیٰ کی الوہیت کا قائل ہوسکتا ہے اور اپنے آپ کو اتی وَجَّهُتُ وَجْهِيَ لِلَّذِى فَطَرَ السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ (الانعام: ۸۰) کہتے وقت واقعی حنیف کہہ سکتا ہے؟ جیسے منہ سے کہتا ہے، ویسے ہی اُدھر کی طرف متوجہ ہو تو لا ریب وہ مسلم ہے۔وہ مومن اور حنیف ہے لیکن جو شخص اللہ تعالیٰ کے سوا غیر اللہ سے سوال کرتا ہے اور اُدھر بھی جھکتا ہے، وہ یادر کھے کہ بڑا ہی بدقسمت اور محروم ہے کہ اُس پر وہ وقت آجانے والا ہے کہ وہ زبانی اور نمائشی طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف نہ جھک سکے۔ترک نماز کی عادت اور کسل کی ایک وجہ یہ بھی ہے کیونکہ جب انسان غیر اللہ کی طرف جھکتا ہے، تو رُوح اور دل کی طاقتیں اس درخت کی طرح (جس کی شاخیں ابتداءً ایک طرف کر دی جاویں اور اُس طرف جھک کر پرورش پالیس ) ادھر ہی جھکتا ہے اور خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک سختی اور تشدد اس کے دل میں پیدا ہو کر اُسے منجمد اور پتھر بنادیتا ہے۔جیسے وہ شاخیں۔پھر دوسری طرف مڑ نہیں سکتا۔اسی طرح پر وہ دل اور روح دن بدن خدا تعالیٰ سے دُور ہوتی جاتی ہے۔پس یہ بڑی خطرناک اور دل کو کپکپا دینے والی بات ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر دوسرے سے سوال کرے۔“ 66 حصہ پنجم ( ملفوظات جلد اوّل صفحہ ۱۰۶ مطبوعہ ربوہ )