سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 464
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۶۴ حصہ پنجم اصل میں یہ ہے کہ ہر امر کے لیے قواعد اور قوانین ہوتے ہیں۔ایسا ہی دُعا کے واسطے قواعد وقوانین مقرر ہیں۔یہ لوگ جو کہتے ہیں کہ ہماری دعا قبول نہیں ہوئی ، اس کا باعث یہی ہے کہ وہ ان قواعد اور مراتب کا لحاظ نہیں رکھتے جو قبولیت دُعا کے واسطے ضروری ہیں۔اللہ تعالیٰ نے جب ایک لا نظیر اور بیش بہا خزانہ ہمارے سامنے پیش کیا ہے اور ہم میں سے ہر ایک اس کو پاسکتا ہے اور لے سکتا ہے۔کیونکہ یہ کبھی بھی جائز نہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کو قادر خدا مان کر یہ تجویز کریں کہ جو کچھ اس نے ہمارے سامنے رکھا ہے اور جو ہمیں دکھایا ہے۔یہ محض سراب اور دھوکا ہے۔ایسا وہم بھی انسان کو ہلاک کر سکتا ہے۔نہیں۔بلکہ ہر ایک اس خزانہ کو لے سکتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے یہاں کوئی کمی نہیں۔وہ ہر ایک کو یہ خزانے دے سکتا ہے پھر بھی اس میں کمی نہیں آسکتی۔“ ( ملفوظات جلد اوّل صفحہ ۷ ۲۷، ۲۷۸ مطبوعہ ربوہ ) (۹) دعا میں اسباب کی رعایت ضروری ہے سنو! وہ دُعا جس کے لئے اُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمُ (المؤمن :۶۱) فرمایا ہے۔اس کے لئے یہی سچی رُوح مطلوب ہے۔اگر اس تضرع اور خشوع میں حقیقت کی رُوح نہیں، تو وہ ٹیں ٹیں سے کم نہیں ہے۔پھر کوئی کہہ سکتا ہے کہ اسباب کی رعایت ضروری نہیں ہے۔یہ ایک غلط نہی ہے۔شریعت نے اسباب کو منع نہیں کیا ہے اور سچ پوچھو تو کیا دعا اسباب نہیں ؟ یا اسباب دُعا نہیں ؟ تلاش اسباب بجائے خود ایک دُعا ہے اور دعا بجائے خود عظیم الشان اسباب کا چشمہ ہے۔“ ملفوظات جلد اوّل صفحہ ۱۰۷ مطبوعہ ربوہ ) (۱۰) غیر اللہ سے دعا اور سوال غیر مومنانہ طریق ہے پھر یہ بات یادر کھنے کے قابل ہے کہ یہ نماز جو اپنے اصلی معنوں میں نماز ہے، دعا سے حاصل ہوتی ہے۔غیر اللہ سے سوال کرنا مومنانہ غیرت کے صریح اور سخت