سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 460
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۶۰ حصہ پنجم قوم کا کانشنس اس متفق علیہا مسئلہ کے برخلاف ظاہر نہیں ہوا۔پس یہی ایک رُوحانی دلیل اس بات پر ہے کہ انسان کی شریعت باطنی نے بھی قدیم سے تمام قوموں کو یہی فتویٰ دیا ہے کہ وہ دُعا کو اسباب اور تدابیر سے الگ نہ کریں بلکہ دعا کے ذریعہ سے تدابیر کو تلاش کریں۔غرض دعا اور تدبیر انسانی طبیعت کے دو طبعی تقاضے ہیں کہ جو قدیم سے اور جب سے کہ انسان پیدا ہوا ہے دو حقیقی بھائیوں کی طرح انسانی فطرت کے خادم چلے آئے ہیں اور تدبیر دُعا کے لئے بطور نتیجہ ضرور یہ کے اور دُعا تدبیر کے لئے بطور محرک اور جاذب کے ہے اور انسان کی سعادت اسی میں ہے کہ وہ تدبیر کرنے سے پہلے دُعا کے ساتھ مبدء فیض سے مدد طلب کرے تا اُس چشمہ لازوال سے روشنی پا کر عمدہ ایام اصلح روحانی خزائن جلد نمبر ۱۴ صفحه ۲۳۱ ۲۳۲) تدبیریں میسر آ سکیں۔“ (۵) دعا اور تدبیر میں تناقض نہیں ہے ”خدا کا قانونِ قدرت جو ہماری نظر کے سامنے ہے ہمیں بتلا رہا ہے کہ سو تدابیر اور معالجات کا طلب اور استدعا سے وابستہ ہے یعنی جب ہم فکر کے ذریعہ سے یا کسی اور طریق جستجو کے ذریعہ سے کسی تدبیر اور علاج کو طلب کرتے ہیں یا اگر ہم طلب کرنے میں احسن طریق کا ملکہ نہ رکھتے ہوں یا اگر اس میں کامل نہ ہوں تو مثلاً اس غور اور فکر کے لئے کسی ڈاکٹر کو منتخب کرتے ہیں اور وہ ہمارے لئے اپنی فکر اور غور کے وسیلہ سے کوئی احسن طریق ہماری شفا کا سوچتا ہے تب اس کو قانونِ قدرت کی حد کے اندر کوئی طریق سُوجھ جاتا ہے جو کسی درجہ تک ہمارے لئے مفید ہوتا ہے سو وہ طریق جو ذہن میں آتا ہے وہ درحقیقت اس خوض اور غور اور فکر اور توجہ کا نتیجہ ہوتا ہے۔جس کو ہم دوسرے لفظوں میں دُعا کہہ سکتے ہیں کیونکہ فکر اور غور کے وقت جب کہ ہم ایک مخفی امر کی تلاش میں نہایت عمیق دریا میں اتر کر ہاتھ پیر مارتے ہیں تو ہم ایسی حالت میں بہ زبانِ حال اُس اعلیٰ طاقت سے فیض طلب کرتے ہیں جس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔غرض