سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 458
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۵۸ (۲) دعا ایک فطرتی امر ہے دیکھو ایک بچہ بھوک سے بیتاب اور بے قرار ہو کر دودھ کے لیے چلاتا ہے اور چیختا ہے، تو ماں کی پستان میں دودھ جوش مار کر آ جاتا ہے؛ حالانکہ بچہ تو دعا کا نام بھی نہیں جانتا لیکن یہ کیا سبب ہے کہ اُس کی چھینیں دُودھ کو جذب کر لیتی ہیں۔یہ ایک ایسا امر ہے کہ عموماً ہر ایک صاحب کو اس کا تجربہ ہے۔بعض اوقات ایسا دیکھا گیا ہے کہ مائیں اپنی چھاتیوں میں دُودھ کو محسوس بھی نہیں کرتی ہیں اور بسا اوقات ہوتا بھی نہیں لیکن جونہی بچہ کی درد ناک چیخ کان میں پہنچی ، فور دُودھ اتر آیا ہے۔جیسے بچہ کی ان چیچنوں کو دُودھ کے جذب اور کشش کے ساتھ ایک علاقہ ہے۔میں سچ کہتا ہوں کہ اگر اللہ تعالیٰ کے حضور ہماری چلا ہٹ ایسی ہی اضطراری ہو تو وہ اُس کے فضل اور رحمت کو جوش دلاتی ہے اور اس کو کھینچ لاتی ہے اور میں اپنے تجربہ کی بنا پر کہتا ہوں کہ خدا کے فضل اور رحمت کو جوش دلاتی ہے اور اس کو کھینچ لاتی ہے اور میں اپنے تجربہ کی بناپر کہتا ہوں کہ خدا کے فضل اور رحمت کو جو قبولیت دعا کی صورت میں آتا ہے، میں نے اپنی طرف کھنچتے ہوئے محسوس کیا ہے بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ دیکھا ہے۔ہاں آج کل کے زمانہ کے تاریک دماغ فلاسفر اس کو محسوس نہ کر سکیں یا نہ دیکھ سکیں تو یہ صداقت دُنیا سے اُٹھ نہیں سکتی اور خصوصاً ایسی حالت میں جب کہ میں قبولیت دعا کا نمونہ دکھانے لئے ہر وقت تیار ہوں۔“ (۳) دعا اور قضاء وقدر ( ملفوظات جلد اوّل صفحہ ۱۲۸ مطبوعہ ربوہ ) " آج کل مسلمانوں میں ایک ایسا گروہ بھی پایا جاتا ہے جو کہتے ہیں کہ دُعا کچھ چیز نہیں ہے اور قضا و قدر بہر حال وقوع میں آتی ہے۔لیکن افسوس کہ یہ لوگ نہیں جانتے که با وجود سچائی مسئلہ قضا و قدر کے پھر بھی خدا تعالیٰ کے قانونِ قدرت میں بعض آفات