سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 456 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 456

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۵۶ حصہ پنجم دعا کے متعلق آپ کے بعض ملفوظات اگر چہ دعا کے متعلق مستقل تالیف کا عرصہ سے عزم ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کے مختلف پہلوؤں پر جو بصیرت افروز روشنی اپنے ذاتی علم اور معرفت اور تجربہ کی بناء پر ڈالی ہے اس کو پیش کیا جاوے لیکن اس موقع کی مناسبت سے اور محض اس خیال سے کہ شاید کسی پڑھنے والے کو اس سے فائدہ پہنچے اور میرے لئے موجب ثواب ہو میں حضرت کے ملفوظات میں سے چند باتیں پیش کر دینا ضروری سمجھتا ہوں۔(۱) دعا کی ماہیت دعا کی ماہیت یہ ہے کہ ایک سعید بندہ اور اس کے رب میں ایک تعلق جاذبہ ہے۔یعنی پہلے خدا تعالیٰ کی رحمانیت بندہ کو اپنی طرف کھینچتی ہے پھر بندہ کے صدق کی کششوں سے خدا تعالیٰ اس سے نزدیک ہو جاتا ہے اور دعا کی حالت میں وہ تعلق ایک خاص مقام پر پہنچ کر اپنے خواص عجیبہ پیدا کرتا ہے سو جس وقت بندہ کسی سخت مشکل میں مبتلا ہو کر خدا تعالیٰ کی طرف کامل یقین اور کامل امید اور کامل محبت اور کامل وفاداری اور کامل ہمت کے ساتھ جھکتا ہے اور نہایت درجہ کا بیدار ہو کر غفلت کے پردوں کو چیرتا ہوا فنا کے میدانوں میں آگے سے آگے نکل جاتا ہے پھر آگے کیا دیکھتا ہے کہ بارگاہِ الوہیت ہے اور اُس کے ساتھ کوئی شریک نہیں۔تب اُس کی روح اُس آستانہ پر سر رکھ دیتی ہے اور قوت جذب جو اس کے اندر رکھی گئی ہے وہ خدا تعالیٰ کی عنایات کو اپنی طرف کھینچتی ہے تب اللہ جل شانہ اس کام کے پورا کرنے کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور اس دعا کا اثر اُن تمام مبادی اسباب پر ڈالتا ہے جن سے ایسے اسباب پیدا ہوتے ہیں جو اس مطلب کے حاصل ہونے کے لئے ضروری ہیں۔مثلاً اگر بارش کے لئے دعا ہے