سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 445 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 445

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۴۵ تو اس کو معزز و مکرم بنادے۔اور اگر جھوٹا ہے تو پھر آپ ہی اس سے مواخذہ کر اور اس جھوٹ کے لئے اسے پکڑ۔آمین۔اس کے بعد اس کا کیا حشر ہوا۔دنیا جانتی ہے۔یہاں اسے بیان کرنے کا محل اور موقع نہیں وہ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِینِ میں بیان ہوگا۔( انشاء اللہ العزیز) لیکن جس غرض کے لئے یہاں میں نے اس کا ذکر کیا ہے وہ اسی قدر ہے کہ ان گالیوں کا اثر حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر اسی قدر تھا کہ آپ نے خدا تعالیٰ کے حضور دعا کی ، اپنے قلم سے کسی قسم کے غصہ اور شدت غضب کا اظہار نہیں کیا۔ورنہ اگر حضور کچھ بھی نہ کہتے تو آپ کے خدام بھی اس کی گالیوں کا جواب دے سکتے تھے۔اور عطائے او بدلقائے او آسان تھا۔غرض آپ کی زندگی کے جس واقعہ کو آپ دیکھیں جہاں دشمنوں نے آپ پر کسی قسم کا حملہ کیا ہو۔آپ نے اس کے جواب میں پورے حلم اور حوصلہ اور صبر و حمل کا اظہار کیا ہے۔آپ کے سکون خاطر اور کوہ و قاری کو کوئی چیز جنبش نہ دے سکتی تھی۔اور یہ ثبوت تھا اس امر کا کہ خدا تعالیٰ کی وحی جو آپ پر ان الفاظ میں نازل ہوئی تھی۔فَاصْبِرُ كَمَا صَبَرَ أُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ فی الحقیقت خدا کی طرف سے تھی اور اسی خدا نے وہ خارق عادت اور فوق الفطرت صبر اور حوصلہ آپ کو عطا فرمایا تھا۔جو اولوا العزم رسولوں کو دیا جاتا ہے۔قبل از وقت خدا تعالیٰ نے متعد دفتنوں کی آپ کو اطلاع دی تھی۔اور وہ فتنے اپنے اپنے وقت پر پوری شدت اور قوت کے ساتھ ظاہر ہوئے۔مگر کسی موقعہ اور مرحلہ پر آپ کے پائے ثبات کو جنبش نہ ہوئی۔پنڈت لیکھرام کے قتل پر تلاشی پنڈت لیکھرام آریہ مقتول اسلام پر شوخی اور گستاخی سے حملہ کرنے کا عادی تھا اور اس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے اپنی ذات کے متعلق نشان طلب کیا۔یہ واقعات حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے متعدد کتابوں ، اشتہاروں میں تحریر فرمائے ہیں۔اور دوست دشمن ان سے واقف ہیں۔