سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 440
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۴۰ را (۱) گر نبود در مقابل روئے مکروہ وسیہ کس چہ دانتے جمال شاہد گلفام (۲) روشنی را قدر از تاریکی است و تیرگی و از جهالت هاست عز و و قر عقل تام را (۳) حجت صادق زنقض و قدح روشن تر شود عذر نامعقول ثابت میکند الزام را ”حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام اور آپ کے خدام کی سواری ان مجمعوں کے پاس سے گزری تو ان لوگوں نے کیا کیا۔اس کا ذکر کرنا شاید اس کے بھول جانے سے بہتر نہ ہوگا۔مگر نہیں ہم دکھانا چاہتے ہیں کہ انہوں نے کیا کیا۔اُن کے اشتہار پڑھ کر ہمیں خیال ہوا تھا کہ ان وعظ کے مجمعوں میں جیسا کہ ظاہر کیا گیا تھا۔حقائق اور معارف قرآن بیان ہوتے ہوں گے۔لیکن ہماری حیرت اور تعجب اور اس کے ساتھ ہی افسوس بھی بڑھ گیا جب دیکھا کہ وہاں گالیوں کے سوا اور کوئی شغل نہیں۔اُن کی گالیاں سن کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے استغنا اور کمال اعراض نے آپ کے قول کی فعل سے تصدیق کر دی۔گالیاں سن کر دعا دیتا ہوں ان لوگوں کو رحم ہے جوش میں اور غیظ گھٹا یا ہم نے اس بیان سے ظاہر ہے کہ ان لوگوں کی حالت کیا تھی۔الفاظ میں پورا نقشہ نہیں دکھایا جاسکتا تھا۔اور پاجی پن کی کیا تصریح کی جاوے۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ان گالیوں کو سنتے ہوئے پورے وقار صبر وسکون سے گزر گئے۔جس روز حضرت مسیح موعود علیہ السلام سیالکوٹ سے واپس ہوئے ہیں اس روز تو اُن سفلہ مزاجوں نے حد ہی کر دی۔اور اس قسم کے نا کر دنی افعال کئے کہ ان کے بیان کرتے ہوئے بھی شرم آتی ہے۔میں نے واقعات کے ذیل میں جس قدر متانت اور تہذیب سے ممکن تھا ان کا ذکر کیا ہے۔لیکن خود اخبار اہل حدیث امرتسر نے جو سلسلہ کا پرانا دشمن ہے۔اس وقت جن الفاظ ا ترجمہ اشعار۔۔اگر مقابلہ میں بدشکل اور سیاہ رو نہ ہوتا تو کیونکر کوئی گل اندام معشوق کا حسن پہچان سکتا۔۲۔اندھیرے کی وجہ سے ہی روشنی کی قدر ہے اور جہالت کی وجہ سے ہی عقل کی عزت قائم ہے۔۳۔کچی دلیل عیب گیری اور بحث کی وجہ سے زیادہ روشن ہو جاتی ہے اور بے ہودہ بہانہ الزام ہی کو ثابت کرتا ہے۔