سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 435
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۳۵ دعا تو میں ہندو کے لئے بھی کرتا ہوں۔مگر خدا تعالیٰ کے نزدیک یہ امر مکروہ ہے کہ اس کا امتحان لیا جاوے۔میں دعا کروں گا آپ وقتا فوقت یاد دلاتے رہیں۔اگر کچھ ظاہر ہوا تو اس سے بھی اطلاع دوں گا۔مگر یہ میرا کام نہیں۔خدا تعالیٰ چاہے تو ظاہر کر دے۔وہ کسی کے منشا کے ماتحت نہیں ہے بلکہ وہ خدا ہے اور غَالِب عَلی اَمرِہ ہے۔ایمان کو کسی امر سے وابستہ کرنا منع ہے۔مشروط بشرائط ایمان کمزور ہوتا ہے۔نیکی میں ترقی کرنا کسی کے اختیار میں نہیں ہے۔ہمدردی کرنا ہمارا فرض ہے اس کے لئے شرائط کی ضرورت نہیں۔ہاں یہ ضروری ہوگا کہ آپ ہنسی ٹھٹھے کی مجلسوں سے دور رہیں۔یہ وقت رونے کا ہے۔نہ جنسی کا۔اب آپ جائیں گے موت حیات کا پتہ نہیں۔دو تین ہفتہ تک تو سچے تقویٰ سے دعائیں مانگو کہ الہی مجھے معلوم نہیں تو ہی حقیقت کو جانتا ہے۔مجھے اطلاع دے اگر صادق ہے تو اس کے انکار سے ہلاک نہ ہو جاؤں۔اور اگر کا ذب ہے تو اس کے اتباع سے بچا اللہ تعالی چاہے تو اصل امر کو ظاہر کر دے۔" اس پر نو وارد نے عرض کیا۔”میں سچ عرض کرتا ہوں کہ میں بہت بُرا ارادہ کر کے آیا تھا۔کہ میں آپ سے استہزا کروں اور گستاخی کروں۔مگر خدا نے میرے ارادوں کو رد کر دیا۔میں اب اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ جو فتویٰ آپ کے خلاف دیا گیا ہے وہ بالکل غلط ہے۔اور میں زور دے کر نہیں کہہ سکتا کہ آپ مسیح موعود نہیں ہیں۔بلکہ مسیح موعود ہونے کا پہلو زیادہ زور آور ہے۔اور میں کسی حد تک کہہ سکتا ہوں کہ آپ مسیح موعود ہیں۔جہاں تک میری عقل اور سمجھ تھی۔میں نے آپ سے فیض حاصل کیا ہے۔اور جو کچھ میں نے سمجھا ہے۔میں ان لوگوں پر ظاہر کروں گا۔جنہوں نے مجھے منتخب کر کے بھیجا ہے۔کل میری اور رائے تھی اور آج اور ہے۔آپ جانتے ہیں کہ اگر ایک پہلوان بغیر لڑنے کے زیر ہو جائے۔تو وہ نامرد کہلائے گا۔اس لئے میں نے مناسب نہیں سمجھا کہ بدوں اعتراض کے تسلیم کر لیتا۔“ الحکم مورخه ۲۱ فروری ۱۹۰۳ صفحه ۹) الغرض وہ نو وارد ڈاکٹر یہ اثر لے کر چلے گئے۔اس ملاقات اور مکالمات کا جو ذکر میں نے کیا ہے اور جس کو آج سے ۲۴ برس پیشتر میں شائع کر چکا ہوں۔اس سے بہت سی باتیں ثابت ہوتی ہیں۔اور