سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 429
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۲۹ آگ نہیں ورنہ جس طرح کی ایذا قوم نے دی ہے اور جو سلوک مولویوں نے کیا ہے اگر آپ اسے واقعی دنیا دار کی طرح محسوس کرتے ہیں تو رات دن کڑھتے رہتے اور امیر پھیر کر ان ہی کا مذکور درمیان لاتے اور یوں حواس پریشان ہو جاتے اور کاروبار میں خلل آجاتا۔زنی جیسی گالیاں دینے والا ، عرب کے مشرک بھی حضور سرور عالم کے مقابل نہ لا سکے مگر میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ نا پاک پر چہ اوقات گرامی میں کوئی بھی خلل کبھی نہیں ڈال سکا۔تحریر میں ان موذیوں کا برمحل ذکر کوئی دیکھے تو یہ شاید خیال کرے کہ رات دن انہیں مفسدین کا آپ ذکر کرتے ہوں گے۔مگر ایک مجسٹریٹ کی طرح جو اپنی مفوضہ ڈیوٹی سے فارغ ہو کر پھر کسی کی ڈگری یا ڈسمس یا سزا سے کوئی تعلق نہیں رکھتا اور نہ اُسے در حقیقت کسی سے ذاتی لگاؤ یا اشتعال ہوتا ہے اسی طرح حضرت تحریر میں ابطال باطل اور احقاق حق کے لئے لوجہ اللہ لکھتے ہیں آپ کے نفس کا اس میں کوئی دخل نہیں ہوتا ایک روز فرمایا۔میں اپنے نفس پر اتنا قابو رکھتا ہوں اور خدا تعالیٰ نے میرے نفس کو ایسا مسلمان بنایا ہے کہ اگر کوئی شخص ایک سال بھر میرے سامنے بیٹھ کر میرے نفس کو گندی سے گندی گالی دیتا رہے آخر وہی شرمندہ ہوگا اور اُسے اقرار کرنا پڑے گا کہ وہ میرے پاؤں جگہ سے اکھاڑ نہ سکا۔“ آپ کی استقامت اور قوت قلب اولوالعزم انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی طرح کسی ترہیب اور رعب انداز نظارہ سے متاثر نہیں ہوتی۔کوئی ہولناک واقعہ اور غم انگیز سانحہ آپ کی توجہ کو منتشر اور مفوض کام سے غافل نہیں کر سکتا۔اقدام قتل کا مقدمہ جسے پادریوں نے برپا کیا اور جن کی تائید میں بعض ناعاقبت اندیش نام کے مسلمان اور آریہ بھی شامل ہو گئے تھے ایک دنیا دار کا پٹہ پگھلا دینے اور اس کا دل پریشان اور حواس مختل کر دینے کو کافی تھا مگر حضرت کے کسی معاملہ میں لکھنے میں۔معاشرت میں۔باہر خدام سے کشادہ پیشانی اور رافت سے ملنے میں غرض کسی حرکت وسکون میں کوئی فرق نہ آیا۔کوئی آدمی قیاس بھی نہیں کر سکتا تھا کہ آپ پر کوئی مقدمہ ہے کسی خوف ناک رپورٹ