سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 415
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۱۵ کا مظہر ہوتا تھا۔جہاں آپ کی اپنی ذاتی چیز کا سوال ہوتا آپ حد درجہ رحیم و کریم اور دل کے حلیم تھے۔جب ہم یہ کہتے ہیں کہ آپ حلیم تھے تو اس کے یہی معنے ہیں کہ آپ غیرت دینی اور حمیت اسلامی کی صحیح شان کے مظہر تھے۔اور کبھی اور کسی حالت میں آپ سے کوئی ایسا فعل سرزد نہ ہوتا تھا جو جوش نفس کا ایک بیجا نتیجہ ہو۔جب انسان اپنے عادات و جذبات پر حکومت نہیں کر سکتا تو اس کی حالت مضطر بانہ ہوتی ہے۔اس سے برداشت اور حوصلہ کی قو تیں سلب ہو جاتی ہیں۔بعض لوگ عادتا ایسے واقع ہوتے ہیں کہ ان میں قوت غضبیہ کا فقدان ہوتا ہے۔اس لئے ان کی حلیمی کوئی خلق نہیں کہلاتی جب تک انسان کو ایسے حالات اور واقعات پیش نہ آجاویں۔جن میں اس کی غضبی قوتوں میں ایک ہیجان اور جوش ہو اس وقت تک نہیں کہا جاسکتا کہ وہ اپنے جذبات پر حکومت کرتا ہے یا نہیں۔حضرت مسیح موعود کے خُلق علم کی شان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلق حلم وحوصلہ کی شان بہت بڑھ جاتی ہے جب ہم ان حالات پر غور کرتے ہیں جو حضور کو پیش آئے۔آپ نے خدا تعالیٰ کی طرف سے مامور ومرسل ہونے کا دعوی کیا اور یہ دعوی کسی خاص قوم کی طرف مبعوث ہونے کا نہ تھا بلکہ اپنے سید ومولا آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اتباع میں نوع انسان کی طرف تھا۔خدا تعالیٰ نے آپ کو موعودادیان اور صلح ائم بنا کر بھیجا تھا۔اس مقام و منصب نے آپ کو مجبور کیا کہ وہ ہر قوم اور مذہب کے غلط عقائد اور اعمال پر حملہ کریں۔مدتوں کے مانے ہوئے غلط عقائد اور مروجہ رسوم و عادات سے الگ ہونا کوئی معمولی بات نہ تھی۔اس پر ہر قوم کے مذہبی پیشواؤں میں جوش پیدا ہوا۔اور انہوں نے کوئی دقیقہ آپ کی مخالفت اور ایزا دہی کا باقی نہ رکھا۔بد زبانی اور ایذا ہی کی حد ہوگئی۔لیکن آپ چونکہ خدا تعالیٰ کے مامور اور مرسل تھے۔آپ نے اس تمام مقابلہ میں باوجود یکہ بے حد اشتعال دلایا گیا۔ضبط اور برداشت کی قوتوں کو ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔اس کے علاوہ آپ کی روزانہ زندگی میں عادتاً ایسی بہت سی باتیں پیش