سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 414 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 414

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۱۴ میں نے بہت غور کیا اور میری سمجھ میں یہی آیا ہے کہ غصہ پر حکومت کے لئے ایک اصل آسان نظر آتا ہے۔اور وہ یہ ہے کہ غصہ علی العموم اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کوئی شخص ہمارے مرغو بات و مطلوبات پر ( وہ اصلی ہوں یا غیر اصلی حملہ کرتا ہے۔اور ہم سے چھین لینا چاہتا ہے۔جب میں اصلی اور غیر اصلی کا لفظ بولتا ہوں تو میری مراد یہ ہے کہ بعض مطلوبات تو اس قسم کے ہیں جن کو ہم چھوڑ ہی نہیں سکتے۔اور وہ ہماری زندگی کا جز ولازم ہیں۔جیسے غذا ، لباس وغیرہ اور بعض وہ ہیں جو زندگی کا جز ولازم نہیں مگر ہم نے ان کو اپنے نفس کے لئے بطور محبوب کے بنالیا ہے۔جیسے حُبّ جاہ ،خواہش تشہیر وغیرہ۔پس جب ہم اپنے نفس پر حکومت کرنے لگیں گے تو ہم اصلی اور غیر اصلی میں ہی امتیاز نہ کریں گے بلکہ اسباب حملہ اور دماغ حملہ پر غور کر کے ایک مستقیم راہ اور متعدل اصول نکال سکنے کی توفیق پائیں گے۔یہ ایک لمبی بحث فلسفہء اخلاق کی ہو جائے گی۔اور شمائل و اخلاق مسیح موعود علیہ السلام کے بیان میں اس بحث کی طرف قارئین کو لے جانا میرا مقصود نہیں۔میں دکھانا یہ چاہتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اخلاق میں حلم و حوصلہ یا ضبط نفس و بُردباری کی شان کہاں تک جلوہ گر تھی اور آپ کی زندگی کے واقعات اور حالات اس حقیقت کو کس طرح نمودار کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا غصہ میں نے سیرت کے مختلف مقامات پر بعض واقعات کو درج کیا ہے اور دکھایا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام میں غصہ کی شان نمودار اور نمایاں تھی۔مگر نہ اس طرح پر کہ جیسے ایک مغلوب الغضب آپے سے باہر ہو جاتا ہے اور اس کے منہ سے جھاگ گرتی ہے۔اور دیوانہ وار دوسروں کی جان مال اور آبرو پر حملہ کرتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو غصہ دلانے والی ایک ہی بات تھی۔کہ شعائر اللہ کی ہتک ہو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور قرآن مجید پر کوئی حملہ ہو۔اس کے لئے آپ کو غصہ آتا تھا۔مگر وہ غصہ وحشیانہ رنگ نہ رکھتا تھا۔بلکہ وہ حمیت و غیرت دینی خود داری اور عزت نفس کے مختلف شعبوں