سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 411 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 411

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۱۱ ہے۔مگر آقا ہو کر اپنے غلام کی خبر گیری نہ کر سکنے کے لئے مجبور ہو جانے کی وجہ سے عذر کرتا ہے۔ایسے آقا پر دنیا کی ہر دولت و زندگی کیوں شمار نہ ہو۔ایسے آقا کی غلامی پر دنیا کی حکومت بھی کیوں قربان کرنے کو جی نہ چاہے۔یہ معمولی جذ بہ اور اظہار خیال نہیں بلکہ حقیقت ہے یہ خط اپنے اندر ایک پیشگوئی بھی رکھتا ہے۔اگر چہ اس کا یہ حل نہیں۔مگر میں سرسری طور پر بیان کر جانا چاہتا ہوں۔یہ خط حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی وفات سے ۱۳ یوم پیشتر لکھا ہے۔اور اس میں بابوشاہ دین صاحب کے نازک وقت کا اشارہ فرمایا ہے اور آپ اس وقت موجود نہ ہونے کا بھی اظہار کر دیا ہے۔آخر یہی ہوا کہ بابو صاحب کی علالت مرض الموت ہوگئی۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس موقعہ پر موجود نہ تھے۔اور یہ سعادت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب کے حصہ میں آئی کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قائم مقام کی حیثیت سے اس خدمت کو انجام دیں۔غرض حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے عمل اور فعل سے ہمیشہ یہ دکھایا کہ آپ شرف انسانیت کو قائم کرنا چاہتے تھے۔اور آپ نے جات پات کے تمام جھگڑوں اور بکھیڑوں کو جو مزیل حیثیت شرف انسانی ہیں دور کر کے اخوت و مساوات کی ایک رو پیدا کردی اور اپنے اُسوہ حسنہ سے ہمیشہ یہ سبق دیا کہ آپ خدا تعالیٰ کی عاجز و درماندہ مخلوق کے لئے ایک حصار اور مامن ہیں۔اور آپ کے دل میں ہمدردی عامہ کا وہ جذبہ موجود ہے جو رب العالمین کے پیارے اور رحمۃ للعالمین کے بروز کی شایانِ شان ہے۔آپ کی ہمدردی کا اجمالی تذکرہ میں ایک عجیب و غریب واقعہ پر ختم کر دینا چاہتا ہوں۔حضرت مخدوم الملت مولا نا عبد الکریم صاحب رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ بیان کیا کہ بیت الدعا کے اوپر میرا حجرہ تھا اور میں اسے بطرز بیت الدعا استعمال کیا کرتا تھا۔اُس میں سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی حالت دعا میں گریہ وزاری کو سنتا تھا۔آپ کی آواز میں اس قدر درد اور سوزش تھی کہ سننے والے کا پتہ پانی