سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 404 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 404

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۰۴ باعث ان فیوض کو مخلوق تک پہنچاتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جو وَجَدَكَ عَائِلًا فرمایا ، اس کی حقیقت بھی یہی ہے۔پس یہ فقرہ جو ساٹھ سال پہلے آپ نے اپنے قلب کی حالت کی بنا پر لکھا تھا۔آج اس کی شرح کے لئے دفاتر کی ضرورت ہے۔پھر انسان کی فطرت میں یہ بات رکھی گئی ہے کہ وہ دنیا کے مال وزر اور ذخارف کو چاہتا ہے۔اس فطرت کا نقشہ قرآن مجید کی اس آیت میں خوب بیان کیا ہے۔جہاں فرمایا کہ لوگوں کی فطرت میں یہ بات خوش نماد کھائی گئی ہے کہ اموال اور عورتیں اور گھوڑے وغیرہ پسند کرتے ہیں۔لیکن انبیاء علیہم السلام اور ان کے رنگ میں رنگین لوگوں کی حالت اس سے بالکل الگ اور جدا ہوتی ہے۔حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں ذِكُرُ الله مالی میرا مال و متاع اللہ تعالیٰ کا ذکر ہے۔حقیقت میں جس قوم کو یہ تعلیم دی گئی ہے کہ ذکر اللہ اکبر دنیا کی تمام عظمتوں اور شوکتوں کے مقابلہ میں رفعت و عظمت اگر ہے تو وہ ذِکرُ اللہ ہی کے لئے ہے۔پھر اس فانی مال و دولت کے لئے خدا کے ہاتھوں سے معطر اور مسموع کئے ہوئے قلوب کب اس کی طرف جا سکتے ہیں۔سُورہ جمعہ کے اس مقام پر غور کرنے سے ایک لطیفہ معلوم ہوتا ہے کہ مومنوں کو ذکر اللہ کی طرف سعی کرنے کا ارشاد ہوا اور پھر ایک حالت یہ بتائی کہ جب لوگ تجارت یا لہو کو دیکھتے ہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یا آپ کے خلفاء اور نواب کو چھوڑ کر ادھر متوجہ ہو جاتے ہیں۔اس لئے ان کو بتایا کہ اللہ تعالیٰ کے حضور یہ مال و دولت جو تجارت کا نتیجہ ہے یا وہ خوشی اور عارضی مسرت جواہو کا نتیجہ ہے وہ نہ روح کی پرورش کا ذریعہ ہیں نہ جسم کی بلکہ وہ ذکر اللہ ہی ایک ایسی چیز ہے جو خَیرُ الرَّازِقِین سے تعلق پیدا کرنے کا موجب ہوتا ہے۔قرآن کریم کے دوسرے مقام پر فرمایا أَلَا بِذِكْرِ اللهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ (الرعد:(۲۹) حقیقی سکینیت واطمینان ذکر اللہ ہی سے پیدا ہوتا ہے۔پس حضرت مسیح موعود نے جو اپنی قلبی کیفیت کو کاغذ پر عیاں کیا ہے۔اس سے آپ کے اطمینانِ قلب اور سکینت کی حالت عیاں ہے۔لوگ اطمینانِ قلب کے لئے تڑپتے اور دنیا میں ہزاروں پاپڑ بیلتے ہیں۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اطمینان اور سکیت کے