سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 16
سیرت برت حضرت مسیح موعود علیہ السلام 17 حصّہ اوّل صدری گھر میں اکثر پہنے رہتے مگر کوٹ عموماً باہر جاتے وقت ہی پہنتے اور سردی کی زیادتی کے دنوں میں اوپر تلے دو دوکوٹ بھی پہنا کرتے تھے بلکہ بعض اوقات پوستین بھی۔صدری کی جیب میں یا بعض اوقات کوٹ کی جیب میں آپکا رومال ہوتا تھا۔آپ ہمیشہ بڑا رومال رکھتے تھے۔نہ کہ چھوٹا جنٹل مینی رومال جو آج کل کا بہت مروج ہے اسی کے کونوں میں آپ مشک اور ایسی ہی ضروری ادویہ جو آپ کے استعمال میں رہتی تھیں اور ضروری خطوط وغیرہ باندھ رکھتے تھے اور اسی رومال میں نفذ وغیرہ جونز رلوگ مسجد میں پیش کر دیتے تھے باندھ لیا کرتے۔گھڑی بھی آپ ضرور اپنے پاس رکھا کرتے مگر اس کی کنجی دینے میں چونکہ اکثر ناغہ ہو جاتا اس لئے اکثر وقت غلط ہی ہوتا تھا۔اور چونکہ گھڑی جیب میں سے اکثر نکل پڑتی اس لئے آپ اسے بھی رومال میں باندھ لیا کرتے۔گھڑی کو ضرورت کیلئے رکھتے نہ زیبائش کیلئے۔آپ کو دیکھ کر کوئی ایک لمحہ کیلئے بھی یہ نہیں کہ سکتا تھا کہ اس شخص کی زندگی میں یا لباس میں کسی قسم کا بھی تصنع ہے یا یہ زیب وزینت دنیوی کا دلدادہ ہے۔ہاں البتہ وَالرُّجُزُ فَاهْجُرُ کے ماتحت آپ صاف ستھری چیز ہمیشہ پسند فرماتے اور گندی اور میلی چیز سے سخت نفرت رکھتے۔یہاں تک کہ صفائی کا اس قدرا ہتمام تھا کہ بعض اوقات آدمی موجود نہ ہو تو بیت الخلا میں خود فینائل ڈالتے تھے۔عمامہ شریف سے آپ ململ کا باندھا کرتے تھے اور اکثر دس گ یا کچھ اوپر لمبا ہوتا تھا۔شملہ آپ لمبا چھوڑتے تھے کبھی کبھی شملہ کو آگے ڈال لیا کرتے اور کبھی اس کا پلہ دہن مبارک پر بھی رکھ لیتے۔جبکہ مجلس میں خاموشی ہوتی۔عمامہ کے باندھنے کی آپ کی خاص وضع تھی۔نوک تو ضرور سامنے ہوتی مگر سر پر ڈھیلا ڈھالا لپٹا ہوا ہوتا تھا۔عمامہ کے نیچے اکثر رومی ٹوپی رکھتے تھے اور گھر میں عمامہ اُتار کر صرف یہ ٹوپی ہی پہنے رہا کرتے مگر نرم قسم کی دوہری جو سخت قسم کی نہ ہوتی۔لے اخبار عام چونکہ آپ پڑھا کرتے تھے وہ بھی اس میں کبھی کبھی باندھ لیتے۔(عرفانی) کے عمامہ میں نے کبھی رنگ دار نہیں دیکھا البتہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب سَلَّمَهُ رَبُّہ نے اپنی سیرت المہدی میں چو ہدری غلام محمد صاحب بی۔اے کی ایک روایت لکھی ہے کہ جب میں ۱۹۰۵ء میں قادیان آیا تو حضرت صاحب نے سبز پگڑی باندھی ہوئی تھی۔ممکن ہے ان کو نگی سے دھوکا ہوا ہو۔اوائل میں آپ نے لبی کلاہ بھی ٹوپی کی بجائے رکھی ہے)۔(عرفانی)