سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 383 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 383

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۸۳ کوئی بشر خیال کر سکتا ہے کہ ضعیف اور کم علم جنس کی طرف سے اتنے دراز عرصہ میں کوئی ایسی ادا یا حرکت خلاف طبع سرزد نہ ہوئی ہوگی۔تجر بہ اور عرف عام گواہ ہے کہ خانه نشین ہم پہلو کی طبعی اور جہالت سے کیسے کیسے رنج وہ امور کے مصدر ہوا کرتے ہیں۔با ایں ہمہ وہ ٹھنڈا دل اور بہشتی قلب قابل غور ہے۔جسے اتنی مدت میں کسی قسم کی رنج اور تنغض عیش کی آگ کی آنچ تک نہ چھوئی ہو۔وہ کڑوا گوشت کا ٹکڑا جو تمام زہروں کا مخزن اور ہر قسم کے غل اور حسد اور کینہ اور عداوت کا منشا ہے اور جو اس عالم میں دوزخ در بغل ہے اگر کسی شخص سے قطعاً مسلوب نہ ہو چکا ہو اور خدائے قدوس کے دستِ خاص نے اس کا تزکیہ تطہیر اور شرح صدر نہ کیا ہو تو خیال میں آسکتا ہے کہ اس پر پیچ و تاب اور آتش ناک زندگی میں ایسے سکون اور وقار اور جمعیت سے زندگی بسر کر سکے؟ ایک ہی خطرناک اور قابل اصلاح عیب ہے جو سارے اندرونی فتنوں کی جڑ ہے۔وہ کیا؟ بات بات پر نکتہ چینی اور چڑ۔اور یہ عیب ایسے مقبض اور تنگ دل کی خبر دیتا ہے کہ جس کی نسبت بآسانی فیصلہ کر سکتے ہیں کہ وہ عالم میں دم نقد دوزخ میں ہے۔دس برس سے میں بڑی غور اور نکتہ چینی کی نگاہ سے ملاحظہ کرتا رہا ہوں اور پوری بصیرت سے اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ حضرت اقدس کی جبلت پاک میں شیطان کے اس مس کا کوئی بھی حصہ نہیں۔میں خود اپنے اوپر اور اکثر افراد پر قیاس کر کے کہہ سکتا ہوں کہ یہی اعتراض اور نکتہ چینی اور حرف گیری اور بات بات میں چڑ چڑا پن کی فطرت ہے جس نے بہتوں کے آرام اور عیش کو مکدر کر رکھا ہے اور ہر ایک شخص جس کی ایسی طبیعت ہے اور قلیل اور بہت ہی قلیل ہیں جو اس عیب سے منزہ ہیں ) اس کھا جانے والی آگ کے فوری اثر کو محسوس کرتا اور گواہی دے سکتا ہے کہ بالآخر یہی فطرت ہے جو تمام اخلاقی مفاسد کی اصل اصول ہے۔اور اس سے زیادہ خدا اور مخلوق کے حقوق کی تباہی کی بنیاد