سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 380 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 380

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۸۰ داروں کو دین سے سخت بے رغبتی تھی اور ان کا ان کی طرف میلان تھا اور وہ اسی رنگ میں رنگین تھیں۔۔۔۔ہاں آپ اخراجات وغیرہ با قاعدہ دیا کرتے تھے۔والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ میری شادی کے بعد حضرت صاحب نے انہیں کہلا بھیجا کہ آج تک تو جس طرح ہوتا رہا ہوتا رہا اب میں نے دوسری شادی کر لی ہے اس لئے اب اگر دونوں بیویوں میں برابری نہیں رکھوں گا تو میں گنہ گار ہوں گا اس لئے اب دو باتیں ہیں یا تو تم مجھ سے طلاق لے لو اور یا مجھے اپنے حقوق چھوڑ دو میں تم کو خرچ دیئے جاؤں گا۔انہوں نے کہلا بھیجا کہ اب میں بڑھاپے میں کیا طلاق لوں گی بس مجھے خرچ ملتا رہے میں اپنے باقی حقوق چھوڑتی ہوں۔“ سیرت المہدی جلد اول روایت نمبر ۴۱ مطبوعه ۲۰۰۸ء) یہ عمل بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا جاری رہا۔یہاں تک کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے با علام الہی اپنے بعض رشتہ داروں اور عزیزوں پر (جو دین سے نہ صرف غافل اور بے پرواہ تھے۔بلکہ بعض ان میں سے استخفاف شریعت میں دلیر اور استہزاء کرنے میں بے باک تھے ) اتمام حجت کے لئے محمدی بیگم کے نکاح کی پیشگوئی کا اظہار کیا۔اس سے طبعی طور پر مخالفت بھڑک اٹھی۔اور آپ کی اہلیہ اول نے بھی ان رشتہ داروں سے قطع تعلق نہ کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے غیرت دینی سے کام لیا۔آپ کا تعلق دین کے معاملہ میں کسی سے اس کی مخالفت کی صورت میں نہ رہ سکتا تھا۔باوجود ہر قسم کی ہدایت و فہمائش کے جب ایسے مخالفوں سے قطع تعلق نہ کیا۔تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک اشتہار بہ عنوان نصرت دین و قطع تعلق از اقارب مخالف دین“ شائع کیا اور خود قطع تعلق کا اعلان کر دیا۔لیکن باوجود اس بے تعلقی اور علیحدگی کے بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی شفقت عامہ اور پاس رشتہ سابقہ کے باعث حضرت ام المومنین کو وقتاً فوقتاً ان کے ساتھ سلوک کرنے سے یہی نہیں کہ منع نہیں کیا بلکہ من وجه ارشاد بھی فرما دیا تھا۔چنانچہ حضرت