سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 378 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 378

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۷۸ پکتا۔البتہ رؤسا اور امراء کے ہاں رہنے کے مکانات بڑے بڑے ہوتے۔اور اس طرح پر خاندان کے شادی شدہ ممبران جدا جدا ہی اپنے کمروں میں رہتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا خاندان جیسا کہ سب کو معلوم ہے ایک نہایت ممتاز اور معزز خاندان تھا اور خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہر قسم کی آسائش اور آرام میسر تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عادت پہلے سے خلوت نشینی کی تھی۔اور عام طور پر آپ کے اوقات عبادت و توجہ الی اللہ اور مطالعہ دینی میں گزرتے تھے۔اور آپ دنیا اور اس کی دلفریبیوں کی طرف توجہ کرنے کے لئے وقت ہی نہ پاسکتے تھے۔حضرت مسیح موعود کا طرز عمل میں ایک شعور اور یقین سے کہ سکتا ہوں کہ اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اختیار میں ہوتا اور آپ سے شادی کے متعلق مشورہ لیا جاتا۔تو شاید آپ ابھی اس کے لئے آمادگی ظاہر نہ کرتے۔اور انکار کر دیتے۔مگر آپ ماں باپ کے نہایت ہی سعادت مند اور اطاعت گزار فرزند تھے۔اس لئے جب حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب مرحوم نے تجویز کی اس پر راضی ہو گئے اور کوئی عذر نہیں کیا۔چونکہ خاندان کی ضروریات کا انتظام بڑے مرزا صاحب کے ذریعہ ہوتا تھا اور حضرت مائی صاحبہ (سیدہ چراغ بی بی رضی اللہ عنہا) حضرت کی والدہ گھر کا انتظام فرماتی تھیں۔اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو کوئی خاص اہتمام اس خصوص میں کرنا نہ پڑتا تھا۔اور آپ اپنے مشاغل دینیہ کو جاری رکھتے ہوئے معاشرہ کے فرائض کو بھی ادا کر رہے تھے۔اس زمانہ میں کبھی کوئی ایسا واقعہ پیش نہیں آیا۔کہ آپ نے اپنے گھر میں کسی قسم کی ناراضگی کا اظہار کیا ہو۔جہاں تک آپ کے امکان میں تھا اور جن امور کا تعلق آپ کی ذات سے تھا۔حسن معاشرت کے پہلو اور خَیرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِاهْلِہ کی تعلیم کو ہمیشہ مد نظر رکھا۔اور خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے دو صاحبزادے خان بہادر مرزا سلطان احمد صاحب حال پینشنز ڈپٹی کمشنر ) اور مرحوم مرز افضل احمد صاحب عطا فرمائے۔اس کے بعد آپ کا دینی شغل دن بدن بڑھتا گیا اور آپ کی توجہ روحانی علوم اور منازل سلوک طے کرنے کی طرف ترقی کرتی گئی اور آپ