سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 374
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۷۴ کی تعمیل میں چودہ بکرے ذبح کرنے کا حکم دیا ہے۔سب جماعت کو کہ دو کہ جس جس کو استطاعت ہے۔قربانی کر دے۔“ (اخبارالبدر۱۳ را پریل ۱۹۰۵ء صفحه ۲ کالم نمبر۳) حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کی ایک رؤیا کا تو او پر ذکر کیا ہے۔ان کی ایک اور رویا کا بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یکم اپریل ۱۹۰۵ء کو ذکر فرمایا تھا۔اور وہ رؤیا حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب کی رؤیا کی تشریح بتائی تھی۔اس تاریخ کی ڈائری میں درج ہے۔حضرت صاحبزادہ میاں بشیر احمد صاحب نے اپنا ایک رؤیا سنایا کہ پیر منظور محمد صاحب کہتے ہیں کہ نصرت الحق پورا ہو گیا ہے اور چھپ گیا ہے۔یہ خواب صاحبزادہ میاں شریف احمد صاحب کے خواب کی تشریح ہے۔(میاں شریف احمد صاحب نے یکم اپریل ۱۹۰۵ء کو خواب دیکھا تھا کہ قیامت آگئی ہے اور لوگ آسمان کی طرف اڑ کر جا رہے ہیں۔اور دیکھا کہ ایک طرف بہشت ہے۔اور ایک طرف دوزخ ہے۔کوئی کہتا ہے کہ یہ بہشت تمہارے لئے ہے۔مگر ابھی جانے کا حکم نہیں۔عرفانی) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کی رؤیا کی تشریح صاحبزادہ میاں شریف احمد صاحب کی رؤیا کو بتایا اور فرمایا کہ یہ قیامت نصرت الحق ہے۔( یہ براہین احمدیہ جلد پنجم سے مراد ہے۔عرفانی) غرض آپ بچوں کے خوابوں کو محض بچے سمجھ کر نظر انداز نہ فرماتے تھے۔آپ بچوں کو گود میں اٹھایا کرتے تھے اگر چہ میں اوپر مِنْ وَجْهِ لکھ چکا ہوں۔مگر کسی قد رصراحت سے پھر اس کا ذکر کرنا چاہتا ہوں۔کہ آپ بچوں کو گود میں اٹھائے ہوئے باہر نکل آیا کرتے تھے۔اور سیر میں بھی اٹھالیا کرتے۔اس میں کبھی آپ کو تامل نہ ہوتا تھا۔اگر چہ خدام جو ساتھ ہوتے۔وہ خود اٹھانا اپنی سعادت سمجھتے۔مگر حضرت بچوں کی خواہش کا احساس یا ان کے اصرار کو دیکھ کر آپ اٹھا لیتے اور ان کی خوشی پوری کر دیتے۔پھر کچھ دور جا کر کسی خادم کو دے دیتے۔صاحبزادی امتہ انصیر کی وفات پر اُن کا جنازہ بھی حضور نے اپنے ہاتھوں پر اٹھایا تھا اور چھوٹے بازار سے باہر نکلنے تک یعنی اڈا خانہ تک حضور ہی اٹھائے ہوئے لے گئے