سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 372
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۷۲ میں کسی قسم کا نقص پیدا نہ ہو۔“ بچوں پر عام شفقت سیرت المہدی جلد اول روایت نمبر ۱۸۲ مطبوعه ۲۰۰۸ء) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی شفقت اور لطف اپنی اولاد کے ساتھ مخصوص نہ تھا۔بلکہ عام طور پر تمام بچوں کے ساتھ تھا۔جماعت کے کسی فرد کے ہاں بچہ پیدا ہوتا۔تو آپ بہت خوش ہوتے اور اکثر ان کے نام خود تجویز فرمایا کرتے۔باہر سے بھی لوگ بچوں کے نام کے متعلق استفسار کرتے۔اور حضور نام تجویز فرماتے۔خاکسار عرفانی کے دوسرے بیٹے ابراہیم علی، تیسرے لڑکے یوسف علی، چوتھے لڑکے محمد داؤد کے نام اور محمودہ حمیدہ۔حامدہ لڑکیوں کے نام حضور نے ہی رکھے تھے۔مدرسہ کے غریب سے غریب طالب علم کی بیماری پر بھی آپ کا وہ جوش ہمدردی مشاہدہ کیا گیا ہے جو کم لوگوں کو اپنی اولاد کے لئے بھی نصیب ہوتا ہوگا۔آپ بار بار اضطراب سے پھرتے اور دعا مانگتے تھے۔اور بار بار حالات پوچھتے تھے۔اور اس کی صحت پر آپ کو ایسی خوشی ہوتی جیسے کسی اپنے بچہ کی صحت پر۔ایسے بہت سے واقعات ہیں۔عبد الکریم صاحب حیدر آبادی اور میاں عبد الرحیم خان صاحب خالد بیرسٹر ایٹ لا تو اس شفقت کے اعجازی نشان ہیں۔بچوں کی خوابوں کو بھی آپ نظر انداز نہ فرماتے تھے میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے شمائل و اخلاق کی جلد اول ( کتاب لھذا) میں آپ کے عادات و معمولات کے ضمن میں صفحہ ۶۶ تا ۶۸ پر " خواب سننے اور سنانے کی عادت کا تذکرہ کیا ہے۔اور آپ کے معمولات میں یہ امر واضح ہے کہ آپ بچوں تک کی خواب کو بھی نظر انداز نہ فرمایا کرتے تھے۔بلکہ بعض اوقات فرماتے کہ بچوں کا نفس زکیہ ہوتا ہے۔اور اس لئے ان کی خواہیں بھی صحیح ہوتی ہیں۔اور اس خصوص میں آپ اپنی اولا دہی کی خوابوں تک اس امر کو محدود نہ رکھتے تھے۔بلکہ کسی بھی بچہ کی خواب آپ تک پہنچ جاوے۔اگر وہ خواب کو ئی حقیقت رکھتی ہے۔جس کو حضور خوب سمجھ سکتے