سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 370
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ٣٧٠ سب کو پالتا ہے۔پس اسی سے ڈرو اور اسی پر بھروسہ کرو۔اور نیکی اختیار کرو۔بہت ممکن ہے کہ آپ نے متعدد کہانیاں سنائی ہوں۔چنانچہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب لکھتے ہیں کہ ایک بُرے بھلے آدمی کی کہانی بھی آپ سناتے تھے۔جس کا خلاصہ یہ تھا کہ ایک بُرا آدمی تھا اور ایک اچھا آدمی تھا۔آخر کار بُرے آدمی کا انجام بُرا ہوا اور اچھے کا اچھا۔لیکن میرے علم میں اس وقت تک یہی دو آئی تھیں۔جو بچوں کو سنائی تھیں۔اسی باب کے تحت میں او پر میں بیان کر آیا ہوں کہ کبھی کبھی بچے بھی آپ کو کہانیاں سنایا کرتے تھے اور آپ بیٹھے ہوئے کہانیاں سنتے اور اکتاتے نہ تھے۔آپ کا یہ فعل شوق سے نہ تھا بلکہ محض بچوں کی دلداری اور تربیت کا ایک پہلو اپنے اندر رکھتا ہے۔میری مونس زندگی اور غم گسار بیوی شروع ۱۸۹۸ء میں جب میرے ساتھ قادیان آگئی۔اور مجھے مطبع اور اخبار کی ضروریات کی وجہ سے کبھی امرتسر جانا پڑتا تو ایک یا دو دن کے لئے حضرت اقدس کے گھر میں اسے میری غیر حاضری میں رہنے کی سعادت حاصل ہوتی۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب میرے پاس پڑھنے کے لئے بھی آیا کرتے تھے۔اور اس لئے وہ میری اہلیہ کو استانی کہتے۔اور کبھی کبھی اس کو کہانی سنانے کے لئے سپارش کراتے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے متعدد مرتبہ فرمایا کہ اچھی کہانی سنادینی چاہیے اس سے بچوں کو عقل اور علم آتا ہے میری غرض اس واقعہ کے لکھنے سے یہ ہے کہ حضور بچوں کی دلداری اور تربیت کو بہت مدنظر رکھتے تھے۔چونکہ کہانیوں کا ذکر آ گیا ہے میں ایک اور امر کا اظہار بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ کہانی کہنے کی کثرت اور عادت کو آپ پسند نہ فرماتے تھے بلکہ بعض اوقات نہایت لطیف پیرایہ سے روک دیتے تھے۔اس کا ذکر میں کسی دوسرے موقعہ پر جہاں آپ کے طرز تعلیم اور قوت قدسیہ کا بیان ہوگا۔انشاء اللہ العزیز کروں گا۔باوجود یکہ حضور بچوں کی تالیف قلب اور دلداری کے لئے چھوٹی سے چھوٹی بات بھی مان لیتے تھے۔مگر کبھی کبھی دینی کام کے پیش آجانے پر ان کے حسب خواہش معمولی کام بھی کرنے سے انکار کر