سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 366 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 366

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۶۶ کی ہیں ظاہر ہے اور واقعات بھی اس کی شہادت دیتے ہیں۔میں اس جگہ دو واقعات لکھوں گا جن میں سے ایک خان بہادر مرز سلطان احمد صاحب کے متعلق ہے۔اور ایک حضرت خلیفتہ المسیح ثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کے متعلق۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب شروع ہی سے نہایت سادہ مزاج اور مستغنی طبیعت تھے۔طبیعت بالکل لا ابالی واقع ہوئی تھی۔انہوں نے اپنے واقعات میں ایک واقعہ حضرت أم المومنین کی روایت سے بیان کیا ہے کہ۔ایک موقعہ پر جب تم بچے تھے اور شاید دوسری جماعت میں ہو گے کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود رفع حاجت سے فارغ ہو کر آئے تو تم اس وقت ایک چارپائی پر الٹی سیدھی چھلانگیں مار ہے اور قلابازیاں کھا رہے تھے آپ نے دیکھ کر تبسم فرمایا اور کہا دیکھو یہ کیا کر رہا ہے پھر فرمایا اسے ایم۔اے کرانا۔“ سیرت المہدی جلد اول روایت نمبر ۶۰ مطبوعه ۲۰۰۸ء) حضرت مرزا بشیر احمد صاحب اب ایم۔اے ہیں۔اور ظاہر ہے کہ یہ پیشگوئی حضور کی وفات کے بعد پوری ہونے والی تھی۔اور حضور کی وفات کے بعد حضرت ام المومنین کی زندگی میں ہونے والی تھی۔میں اس وقت پیشگوئی پر بحث نہیں کرتا ہوں بلکہ اس کی طرف ایک نکتہء خیال سے گفتگو کرتا ہوں۔اور وہ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مقصد ایم اے کرانے سے یہ ہرگز نہ تھا کہ وہ حکومت میں کوئی بڑا عہدہ حاصل کرنے کے قابل ہوسکیں گے یا اور کوئی دنیوی مفاد حاصل ہو گا۔بلکہ حضور یہ چاہتے تھے کہ خدمت دین کے لئے بہترین موقعہ ان کو مل سکے گا۔اس لئے کہ آپ کی اصل تمنا یہی تھی اور آج واقعات اس کی تصدیق کر رہے ہیں۔غرض اولاد کے متعلق آپ کا منتہائے نظر یہی تھا کہ وہ خادم دین ہوں۔اب میں ان دونوں واقعات کو درج کرتا ہوں۔جن کا اوپر ذکر کر چکا ہوں۔اعلیٰ حضرت کے منجانب اللہ ہونے کے دوسرے دلائل و براہین میں سے آپ کی عملی زندگی کا وہ حصہ بھی عجیب ہے جو آپ اندرون خانہ میں گزارتے ہیں۔آؤ میں تمہیں آپ کی ایک اندرون خانہ