سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 365
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۶۵ اسے نہایت اہم سمجھتا ہوں۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی شفقت پدری کا ایک بہترین نمونہ۔حضرت صاحبزادہ صاحب فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم گھر کے بچے مل کر حضرت صاحب کے سامنے میاں شریف احمد کو چھیڑ نے لگ گئے کہ ابا کو تم سے محبت نہیں ہے اور ہم سے ہے۔میاں شریف بہت چڑتے تھے۔حضرت صاحب نے ہمیں روکا بھی کہ زیادہ تنگ نہ کرومگر ہم بچے تھے لگے رہے۔آخر میاں شریف رو نے لگ گئے اور ان کی عادت تھی کہ جب روتے تھے تو ناک سے بہت رطوبت بہتی تھی۔حضرت صاحب اُٹھے اور چاہا کہ ان کو گلے لگا لیں تا کہ ان کا شک دور ہومگر وہ اس وجہ سے کہ ناک بہہ رہا تھا پرے پرے کھچتے تھے۔حضرت صاحب سمجھتے تھے کہ شاید اسے تکلیف ہے اس لئے دور ہوتا ہے۔چنانچہ کافی دیر تک یہی ہوتا رہا کہ حضرت صاحب ان کو اپنی طرف کھینچتے تھے اور وہ پرے پرے کھجتے تھے۔اور چونکہ ہمیں معلوم تھا کہ اصل بات کیا ہے اس لئے ہم پاس کھڑے ہنستے جاتے تھے۔“ سیرت المہدی جلد اول روایت نمبر ۶۴ مطبوعه ۲۰۰۸ء) ایک دوسری روایت میں حضرت صاحبزادہ صاحب فرماتے ہیں کہ جب ہم بچے تھے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام خواہ کام کر رہے ہوں یا کسی اور حالت میں ہوں ہم آپ کے پاس چلے جاتے تھے کہ اتنا پیسہ دو اور آپ اپنے رومال سے پیسہ کھول کر دے دیتے تھے۔اگر ہم کسی وقت کسی بات پر زیادہ اصرار کرتے تھے تو آپ فرماتے تھے کہ میاں میں اس وقت کام کر رہا ہوں زیادہ تنگ نہ کرو۔اولاد د کے متعلق آپ کی خواہش یہ تھی کہ وہ خادم دین ہوں اولاد کے متعلق حضور کی خواہش و تمنا ایک دنیا دار کے حصول و مقاصد کی طرح نہ تھی۔کہ وہ بہت بڑے عہدہ دار ہوں یا ان کے پاس ڈھیروں ڈھیر سونا اور دنیا کے متاع ہوں۔آپ کی غرض واحد اور تمنائے اعظم محض یہ تھی کہ وہ خادم دین ہوں۔یہ امر آپ کی دعاؤں سے جو اولاد کے متعلق آپ نے