سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 364 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 364

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۶۴ بہادرمرزا سلطان احمد صاحب کو یہ سعادت حاصل ہوئی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام (اپنے والد مکرم ) سے فارسی کی بعض کتب مثلاً گلستان ، بوستان اور نحو اور منطق کے ابتدائی رسالے پڑھے تھے۔خان بہادر نے مجھے بتایا کہ ان کا معمول تھا کہ میں کتابیں سرہانے رکھ کر سو جایا کرتا تھا۔بہت محنتی نہ تھا۔لیکن سبق سمجھ لیا۔اور کچھ یاد بھی رکھا۔حضرت مسیح موعود" میرا آموختہ بھی سنا کرتے تھے اور میں بھول بھی جاتا تھا۔مگر یہ کبھی نہیں ہوا کہ پڑھنے کے متعلق مجھ سے ناراض ہوئے ہوں یا مجھے مارا ہو۔جب حضور خدا کے منشاء اور وحی سے مامور ہو کر تبلیغ سلسلہ کے کام میں مصروف ہو گئے تو بچوں کی تعلیم کے متعلق دوسرے استادوں کی خدمات حاصل ہونے لگیں مجھے یاد ہے کہ ایک مرتبہ بچوں کی عربی علیم کے لئے آپ نے ایک کورس عربی بول چال کا تیار کرنا شروع فرمایا تھا۔اور بچے نہایت خوشی سے اسے یاد کرتے تھے۔بعد میں ایک کورس آپ نے بڑے آدمیوں کے لئے بھی تیار فرمانا چاہا۔اور کچھ سبق لکھے بھی گئے تھے۔مگر وہ سکیم کثرت کار کی وجہ سے ملتوی ہو گئے۔محبت پدری کا مظاہرہ میں نے ذکر کیا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی اولاد سے جو محبت کرتے تھے اور ان کا اکرام کرتے تھے اس میں ایک راز یہ بھی تھا کہ آپ ان کو آیات اللہ یقین کرتے تھے۔خدا تعالیٰ نے ایسے وقت میں کہ آپ کو دوسری شادی کا خیال بھی نہ تھا۔اس شادی اور اس کے ذریعہ ایک خادم دین اولاد کی پیشگوئی فرمائی تھی جو اپنے وقت پر پوری ہوئی۔اور آج خدا تعالیٰ کے فضل سے اس برگ و بار سے ہم فائدہ اٹھا رہے ہیں۔عام طور پر والدین کو اپنے بچوں سے محبت ہوتی ہے اور بچوں کو والدین سے۔اور جب بچے ایک سے زیادہ ہوں۔تو بچوں میں یہ جذبہ بھی ہوتا ہے کہ ان میں سے ہر ایک سمجھتا ہی نہیں یقین کرتا ہے۔کہ مجھ سے زیادہ محبت ہے۔اور بعض اوقات بچے اپنے بچپنے کی شان سے آپس میں اس محبت پدری و مادری پر مباحثہ بھی کرتے ہیں۔ایک دوسرے کو کہتا ہے کہ مجھ سے زیادہ محبت ہے۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے اس مظاہرہ کا ایک واقعہ سیرت میں لکھا ہے۔میں