سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 362
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۶۲ سے بھی چند خدمتگار عورتیں شربت شیرہ کے لئے برتن ہاتھوں میں لئے آنکلیں۔اور آپ کو دینی ضرورت کے لئے ایک بڑا اہم مضمون لکھنا تھا اور جلد لکھنا تھا۔میں بھی اتفاقاً جا نکلا کیا دیکھتا ہوں حضرت کمر بستہ اور مستعد کھڑے ہیں جیسے کوئی یورپین اپنی دنیوی ڈیوٹی پر پچست اور ہوشیار کھڑا ہوتا ہے اور پانچ چھ صندوق کھول رکھے ہیں اور چھوٹی چھوٹی شیشیوں اور بوتلوں میں سے کسی کو کچھ اور کسی کو کوئی عرق دے رہے ہیں اور کوئی تین گھنٹے تک یہی بازار لگا رہا اور ہسپتال جاری رہا فراغت کے بعد میں نے عرض کیا حضرت یہ تو بڑی زحمت کا کام ہے اور اس طرح بہت سا قیمتی وقت ضائع جاتا ہے۔اللہ اللہ ! کس نشاط اور طمانیت سے مجھے جواب دیتے ہیں کہ یہ بھی تو ویسا ہی دینی کام ہے۔یہ مسکین لوگ ہیں، یہاں کوئی ہسپتال نہیں ہمیں ان لوگوں کی خاطر ہر طرح کی انگریزی اور یونانی دوائیں منگوا رکھتا ہوں جو وقت پر کام آجاتی ہیں۔اور فرمایا۔یہ بڑا ثواب کا کام ہے مومن کو ان کاموں میں سست اور بے پروا نہ ہونا چاہیے۔“ ( مصنفہ حضرت مولانا عبدالکریم صاحب سیالکوٹی صفر ۳۴، ۳۵) دینی معاملات میں بچوں کے سوال کو بھی اہمیت دیتے تھے جہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ معمول تھا کہ وہ بچوں پر ہر طرح شفقت فرماتے۔اوران کو سزادینے سے نہ صرف کراہت فرماتے بلکہ اگر کوئی سزا دے تو سخت ناپسند فرماتے۔وہاں دینی امور میں آپ بچوں کے کسی ایسے فعل کو جو حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا قرآن کی تو ہین کا موجب ہو برداشت نہ کرتے۔جیسا کہ میں پیچھے کسی موقعہ پر لکھ آیا ہوں کہ ایک مرتبہ حضرت صاحب زادہ مرزا مبارک احمد صاحب کو آپ نے مارا۔اسی طرح اگر کوئی بچہ دینی معاملہ میں استفسار کرے تو آپ کا یہ طریق نہ تھا کہ محض بچہ سمجھ کر اس سے بے التفاتی کریں۔اس کا جواب نہ دیں۔اور یہ بھی نہ ہوتا کہ اگر بچہ کوئی بات کہنا چاہے تو اسے روک دیں۔برابر توجہ سے اسے سنتے۔اس کے سوال کو اسی طرح اہم سمجھتے